وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہےکہ آبادی کو کنٹرول کرنا پڑےگا، سالانہ 11 ہزار خواتین حمل کے دوران انتقال کرجاتی ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان پاپولیشن سیمینار سے خطاب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آبادی کے کنٹرول پر وزارت صحت کام کر رہی ہے، ماہرانہ رائے لے رہے ہیں، آبادی کو کنٹرول کے لیے ایکشن پلان مرتب کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ آبادی کا مسئلہ تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور انفرادی قوت کے ساتھ جڑا ہے، وسائل سے زیادہ آبادی ہے تو وسائل کم افراد کو ملیں گے،ترقی میں مشکلات ہوں گی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کیا پیدا ہونے والے بچے کا صاف ہوا، پانی، خوراک اور روزگارکا حق نہیں؟ بے قابو آبادی سے تمام وسائل استعمال کرلیے گئے تو آئندہ نسلوں کی حق تلفی ہوگی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ توازن اور میزان پر دنیا قائم ہے، انسان دنیا کا خلیفہ مقرر کیا گیا ہے، آبادی کو کنٹرول کرنے کے عمل کو متنازع نہیں بنانا چاہیے، فیصلہ کرنا ہوگا کہ جاہل بچوں کی فوج پالنی ہے یا ذہین اورصحت مند نسل تیارکرنی ہے،40 فیصد بچے عدم غذائیت کا شکار ہیں۔


























Leave a Reply