پاکستان کا وفاقی بجٹ آئندہ ماہ 5 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باعث حکومت اس بار مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ پر بجٹ کے اثرات مجموعی طور پر ملے جلے رہیں گے، حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، بلند شرح سود اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں حکومت اس بجٹ کے ذریعے ملکی معیشت کو کس سمت میں لے کر جاتی ہے اور آئی ایم ایف کے اہداف کو کس حد تک پورا کر پاتی ہے۔
وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، گزشتہ 4 سالوں کے بجٹ کا جائزہ لیں تو معاشی محور مسلسل پرائمری سرپلس یعنی سود کی ادائیگی نکال کر اخراجات کو آمدنی سےکم رکھنے پر ہے اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے پر ہے۔
آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث اس بار بھی بجٹ کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور معاشی استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ٹاپ لائن رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے 15 ہزار 300 ارب روپے کا بڑا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے جو گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ ہے۔
اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے زراعت پر ٹیکس بڑھانے اور سروسز پرجی ایس ٹی کا دائرہ وسیع کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو ملک کی جی ڈی پی گروتھ 3 سے ساڑھے 3 فیصد تک رہ سکتی ہے۔
بجٹ حکومت کے لیے امتحان ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتی ہے۔

























Leave a Reply