(4 نومبر 2026): پاکستان میں منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کی مقامی تیاری کیلیے ترکیہ سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نزیروغلو نے ملاقات کی، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک، ویکسین کی تیاری، افرادی قوت کی تربیت اور ویلیو ایڈڈ غذائی مصنوعات کی برآمدات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو عملی شکل دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کیلیے متعلقہ وزارتوں، جامعات، اداروں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان روابط کو فروغ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مویشیوں میں منہ کھر اور انتڑیوں کی خطرناک بیماریاں
ملاقات میں استعداد کار میں اضافے اور تکنیکی تربیت کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ پاکستانی جانب سے ترکیہ کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ 100 تربیتی شرکا میں سے ابتدائی طور پر تقریباً 30 افراد کو ترکیہ بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے ترکیہ کے ممکنہ تربیتی اداروں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ موزوں جامعات، ترجیحی شعبوں اور تربیتی طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کیلیے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رابطہ جاری ہے۔
ترک سفیر نے بالخصوص زرعی شعبے میں مہارت رکھنے والی ترک جامعات کے ساتھ براہ راست روابط کے قیام میں ذاتی تعاون کی پیشکش کی۔
لائیو اسٹاک کی ترقی اور منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کی مقامی تیاری ملاقات کے اہم موضوعات رہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان میں منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کی مقامی تیاری کیلیے ترکیہ سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترک سفیر نے اس سلسلے میں تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ترک تکنیکی ماہرین کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ باہمی تعاون کے عملی امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس موقع پر پاکستانی اور ترک لائیو اسٹاک ماہرین کے حالیہ تبادلوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں پاکستانی وفد کا ترکیہ کا دورہ اور وہاں کے لائیو اسٹاک کے شعبے کا مطالعہ شامل ہے۔
دونوں جانب سے منہ کھر کی بیماری پر قابو پانے اور ویکسین کی تیاری میں تعاون کو بیماری سے پاک زونز کے قیام اور پاکستانی گوشت کی برآمدات میں اضافے سے منسلک کیا گیا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ جانوروں کی بیماریوں پر مؤثر قابو اور ویکسین کی مقامی تیاری سے بین الاقوامی منڈیوں، بالخصوص ترکیہ، میں پاکستانی گوشت کی رسائی کے امکانات بہتر ہوں گے۔
زیتون کے تیل کی تیاری
ملاقات میں ترکیہ کے ترقیاتی ادارے تیکا (TIKA) کے تعاون سے مظفرآباد میں قائم زیتون کے تیل کی تیاری کے مرکز کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے تقریباً 5000 کاشتکار مستفید ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے بلوچستان، خیبر پختونخوا، چکوال اور اٹک سمیت دیگر زیتون پیدا کرنے والے علاقوں میں ایسے منصوبوں کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی تاکہ زیتون کی پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ زیتون اور دیگر ویلیو ایڈڈ غذائی مصنوعات کے شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعاون کو محض اظہارِ خیر سگالی تک محدود رکھنے کے بجائے تکنیکی ٹیموں، ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے عملی پیش رفت میں تبدیل کیا جائے گا۔
