سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی نئی دھمکیوں کے باوجود ریاض کا ہوائی اڈہ جزوی طور پر کُھل گیا ہے۔
سعودی عرب نے کہا کہ مرکزی ہوائی اڈے نے اتوار کو دو ٹرمینلز پر دوبارہ آپریشنز شروع کر دیا ہے جب کہ ایران سے منسلک حوثیوں نے اس ایئرپورٹ پر حملہ کرتے رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “فوجی ہدف” ہے۔
ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے نے 10 اکتوبر کو حملے کے بعد آپریشن روک دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ریاض ایئرپورٹ کے آفیشنل ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں کنفرم بکنگ رکھنے والے مسافروں کو ایئرپورٹ آمد سے قبل بکنگ اور فلائٹ اسٹیٹس کے بارے میں اپنی ائیرلائن سے رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حملے ناکام
سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی ملیشیا نے 12 گھنٹے میں سعودی عرب پر 11 بیلسٹک میزائل حملے کیے، حملوں میں ایک کروز میزائل اور دو ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔
سعودی اتحادی افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے، 3 عمارتوں اور 7 گاڑیوں کو نقصان پہنچا، خمیس، مشیط اور احد رفیدہ میں تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ گرا۔
