اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشت گرد آنا شروع ہوئے۔
مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں دہشت گردوں کو لا کر کھلی چھوٹ دی گئی، ان کی حکومت آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشت گرد آنا شروع ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کہا گزشتہ ڈھائی سال میں وزرائے اعلیٰ کے پی کو تعاون کی یقین دہانی کرائی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، ڈھائی سال میں ہرممکن کوشش کی کہ معاملات بہتر کیے جائیں، آج دہشت گردوں کا خاتمہ نہ کیا تو ترقی کا سفر رک جائے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کی حکومت ترقی کا سفر روکنے کے درپے تھی، ایک پارٹی بربادی پر تلی ہو تو افسوس کی بات ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب ڈائیلاگ ٹوٹ گیا تو مجبوری میں ہمیں فیصلہ کرنا پڑا، ڈائیلاگ میں پی پی اور ن لیگ کے نمائندے تھے، دن رات محنت کی، ایک وقت آیا کہ پتھر کی لکیر کی طرح بات تھی کہ معاہدہ ہونے جارہا ہے، تمام شرائط طے ہوئیں، آخری وقت پر ڈرافٹ میں مختلف تبدیلیاں کی گئیں۔
یہ پڑھیں: پی ٹی آئی کے کئی لوگوں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقوی
ان کا کہنا تھا کہ ایک متفقہ مسودہ طے ہوا ،پھر کہا گیا تھوڑا وقت دیں وزیراعلیٰ کے پی کو بتائیں، جب یہ وزیراعلیٰ کے پی کو بتانے گئے اس کے بعد جو ہوا سب کو پتا ہے، مذاکرات ٹوٹ گئے، ان کو حکم تھا دوبارہ 9 مئی کرنا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کابینہ میٹنگ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، مشاورت کےبعد فیصلہ کیا گیا، ہمیں مجبورا فیصلہ کرنا پڑا ایمرجنسی کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
