زبان، مسوڑوں، ہونٹوں یا گالوں کے اندرونی حصوں میں چھالے یا زخم کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے الرجی، انجری، انفیکشن، کسی چیز کا تناؤ وغیرہ۔
منہ میں چھالے ہونا بہت عام مسئلہ ہے جس کا سامنا ایک تخمینے کے مطابق دنیا کے لگ بھگ 10 سے 25 فیصد افراد کو ہوتا ہے۔
اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں canker sore اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
ان کی وجہ سے کھانا پینا مشکل ہوجاتا ہے جبکہ تکلیف الگ ہوتی ہے۔
اگر آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہے تو چند آسان طریقے درد میں تیزی سے کمی لانے کے ساتھ ساتھ چھالوں یا زخم ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
بیکنگ سوڈا
بیکنگ سوڈا بنیادی طور پر منہ کے اندر تیزابیت اور الکلائن کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
عام طور پر زیادہ تیزابیت منہ میں چھالوں کا باعث بنتی ہے جبکہ بیکنگ سوڈا منہ میں موجود نقصاہ دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے اور ورم کش بھی ہوتا ہے۔
آدھے کپ پانی میں ایک چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا کو ملائیں اور اس سیال کو منہ میں 15 سے 30 سیکنڈ تک رکھ کر تھوک دیں۔
یہ عمل ہر چند گھنٹوں بعد دہرائیں۔
ٹی بیگز
چائے کی پتی بھی منہ میں تیزابیت کی سطح میں کمی لاتی ہے جبکہ اس میں ایسے اجزا بھی موجود ہوتے ہیں تکلیف میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
منہ میں چھالے ہونے پر ایک استعمال شدہ ٹی بیگ کو 5 منٹ تک چھالے سے لگائے رکھنے سے ریلیف محسوس ہوسکتا ہے۔
ہائیڈروجن پرآکسائیڈ
ہائیڈروجن پرآکسائیڈ سے منہ کے چھالوں کی صفائی کرنے سے انہیں ٹھیک کرنا ممکن ہے۔
اس کے لیے ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور پانی کی یکساں مقدار کو مکس کریں۔
اس سیال میں روئی کو ڈبو کر متاثرحصے پر لگائیں، یہ عمل دن میں چند بار دہرائیں۔
البتہ اسے نگلنے کی کوشش نہ کریں۔
نمک ملے پانی سے مدد لیں
نمک ملے پانی سے 30 سیکنڈ تک کلیاں کریں تاکہ چھالوں کے ختم ہونے کا عمل تیز ہوجائے۔
نمک میں موجود سوڈیم کلورائیڈ پانی میں مل کر متاثرہ ٹشوز کے گرد زخموں کے ٹھیک ہونے کا عمل تیز کردیتا ہے۔
ایلو ویرا
ایلو ویرا جیل بھی منہ کے چھالوں کو ٹھیک کرنے کا عمل تیز کردیتا ہے جبکہ درد میں بھی کمی لاتا ہے۔
ایک صاف چمچ کے ذریعے اس جیل کی کچھ مقدار براہ راست متاثرہ حصے پر لگائیں اور ضرورت پڑنے پر اس عمل کو دہرائیں۔
دہی
منہ میں چھالے کیوں ہوتے ہیں، اس کی ٹھوس وجہ تو معلوم نہیں مگر اکثر وہ ایک بیکٹریا Helicobacter pylori کے باعث ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دہی میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا منہ کے چھالوں سے نجات دلانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کے لیے روزانہ کم از کم ایک کپ دہی کھانا عادت بنانا ضروری ہے۔
شہد
شہد جراثیم اور ورم کش ہوتا ہے اور تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اس سے زخم ٹھیک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شہد سے منہ کے چھالوں کا حجم، ورم اور تکلیف میں کمی آتی ہے۔
اس مقصد کے لیے شہد کو روزانہ 4 بار چھالوں پر لگائیں، مگر یہ فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب شہد خالص اور کم از کم پراسیس شدہ ہو۔
ناریل کا تیل
ناریل کے تیل کو بھی منہ کے چھالوں سے نجات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناریل کا تیل ورم اور جراثیم کش ہوتا ہے جس سے چھالوں کی سوجن اور تکلیف کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ناریل کے تیل کو چھالوں پر لگائیں، یہ عمل دن میں کئی بار دہرائیں۔
سیب کا سرکہ
سیب کا سرکہ جراثیم کش ہوتا ہے اور اس سے بھی منہ کے چھالوں کو ٹھیک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک چائے کے چمچ سرکے کو ایک کپ پانی میں ملائیں اور اس سیال کو ایک منٹ تک منہ کے اندر گھما کر تھوک دیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔























Leave a Reply