آپ 20 سال پرانے ٹیلی ویژن (ٹی وی) ریموٹ کو دیکھیں اور پھر اس کا موازنہ موجودہ عہد کے کسی ریموٹ سے کریں۔
تو چند معمولی تبدیلیوں سے ہٹ کر دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔
درحقیقت اس عرصے میں ریموٹ کنٹرولز میں کوئی خاص فرق نہیں آیا، مزید براں ان میں زیادہ تر بٹن ایسے ہوتے ہیں جو کسی کام کے نہیں ہوتے، تو وہ کیوں اس کا حصہ ہوتے ہیں؟
اس کی وجوہات کافی دلچسپ ہیں۔
آپ ٹی وی لینا چاہتے ہیں یا کوئی بھی الیکٹرونک ڈیوائس، لوگ ہمیشہ ایسے فیچرز سے لیس ڈیوائسز لینا چاہتے ہیں جو زیادہ شاہانہ محسوس ہوں۔
اس کے برعکس ایک ریموٹ کنٹرول کم بٹنوں کے ساتھ بہت سستا محسوس ہوگا۔
تو کمپنیوں کی جانب سے اس خیال کو مدنظر رکھا گیا اور پراسرار رینبو بٹنوں کا اضافہ کر دیا جس سے آپ کو لگے کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے۔
زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر افراد بیشتر افراد کو ریموٹ کنٹرول کے بٹنوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ بس مخصوص بٹنوں کو ہی استعمال کرتے ہیں۔
ایک اور وجہ کمپنیوں کی جانب سے ریموٹ کی تیاری کی لاگت کو مستحکم رکھنا ہے۔
اب اگر کوئی کمپنی کم بٹنوں والا ریموٹ کنٹرول تیار کرنا چاہے گی تو اس کے لیے پلاسٹک کیسنگ کا نیا سانچا تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جبکہ ایک مختلف سرکٹ بورڈ درکار ہوگا۔
اسی طرح ریموٹ کنٹرول ٹھیک کام کرے گا یا نہیں، اس کے لیے نئے ٹیسٹ کرنا ہوں گے۔
تو اس اضافی خرچے اور درد سر سے زیادہ آسان یہ ہے کہ پہلے سے موجود ریموٹ کنٹرول سانچے کو استعمال کیا جائے جو کہ ہر طرح کے ٹی وی پر کام کرتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ریموٹ کنٹرول کسی طیارے کے کاک پٹ جیسا بن گیا ہے، جس میں بہت کم بٹنوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر مجموعی طور پر 50 یا اس سے زائد بٹن ریموٹ کا حصہ ہوتے ہیں، جن میں سے بیشتر بس نمائشی ہوتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ وجہ ریموٹ کنٹرول کا ڈارک ڈیزائن ہے۔
اکثر افراد ریموٹ کنٹرول کو تاریکی میں استعمال کرتے ہیں اور دیکھنے کی بجائے لمس پر انحصار کیا جاتا ہے۔
تو بیشتر افراد ریموٹ کنٹرولز کے بٹنوں کے ڈیزائن سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور اسے دیکھے بغیر بھی استعمال کرسکتے ہیں اور انہیں درست بٹن کی تلاش کی ضرورت نہیں ہوتی۔























Leave a Reply