زمین کی جانب بڑھنے والا ایک شہاب ثاقب شمال مشرقی امریکا کے اوپر دھماکے سے پھٹ گیا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق شہاب ثاقب کے دھماکے کی توانائی 300 ٹن بارود پھٹنے کے برابر تھی۔
آگ کا یہ گولہ شمال مشرقی میساچوسٹس اور جنوب مشرقی نیو ہیمپشائر کے اوپر مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے پھٹا۔
ناسا کی عہدیدار جینیفر ڈورین نے بتایا کہ یہ شہابیہ ک ایک قدرتی خلائی جسم تھا، کسی خلائی ملبے یا سیٹلائیٹ کی زمین میں دوبارہ داخل ہونا نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے پھٹنے سے خارج ہونے والی توانائی 300 ٹن بارود کے برابر تھی اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ بلند گونج سنائی دی۔
یہ شہابیہ 75 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرہا تھا اور سطح زمین سے 40 میل کی بلندی پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔
اس خطے میں رہنے والے اس اچانک بلند گونج سے گھبرا گئے تھے جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے بتایا کہ یہ دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ گھر لرز گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ کسی معمول کے شہاب ثاقب سے کچھ بڑا تھا اور ایک گز چوڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر زیادہ تر اس طرح کے خلائی اجسام زمین سے ٹکرانے سے قبل فضا میں جل جاتے ہیں اور زیادہ امکان یہی تھا کہ یہ شہابیہ سمندر میں جاکر گرتا۔


























Leave a Reply