اگر آپ اپنی صحت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو گھنٹوں تک جم میں گزارنے کی ضرورت نہیں۔
درحقیقت ہر ہفتے محض 30 منٹ کی سخت ورزش سے ہی صحت کو نمایاں حد تک بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بات ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ابھی طبی اداروں کی جانب سے ہر ہفتے کم از کم ڈھائی گھنٹے یا 150 منٹ تک ورزش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ دورانیہ جتنا زیادہ ہو، اتنا بہتر ہوتا ہے۔
مگر بیشتر افراد کے لیے اس ہدف کو پورا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بامقصد طبی فوائد کے لیے بیشتر افراد کو بہت زیادہ وقت تک ورزش کرنے کی ضرورت نہیں۔
تحقیق کے مطابق محض 30 منٹ کی سخت ورزش سے بھی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
یعنی روزانہ ساڑھے 4 منٹ یا ہر دوسرے دن 10 منٹ کی ورزش ہی کافی ہے، مگر جسمانی سرگرمیوں کی شدت اہم ہیں۔
یعنی ورزش ایسی ہو کہ سانس پھول جائے مگر پھر بھی مختصر جملے بولنے کے قابل ہوں، تاہم گانا نہ گا سکیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر افراد کے لیے ورزش کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج وقت کی کمی ہوتا ہے، مگر مختصر وقت کی سخت ورزش کو عادت بنانا بھی کافی ہے۔
محققین نے بتایا کہ مختصر وقت کی سخت ورزشوں سے کارڈیو فٹنس بہتر ہوتی ہے جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر اچھی صحت کے لیے اہم ہوتی ہے۔
کارڈیو فٹنس سے مراد ورزش کرتے ہوئے جسم کی آکسیجن کو جذب کرنے اور مسلز سمیت اعضا تک پہنچانے کی اچھی صلاحیت ہے۔
تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنے، تیراکی، سیڑھیاں چڑھنے اور سائیکل چلانے جیسی ورزشوں سے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانس پھول جاتی ہے، جس سے دل اور نظام تنفس سے جڑی صحت بہتر ہوتی ہے۔
دل اور نظام تنفس کی فٹنس موجودہ اور مستقبل کی صحت کے بارے میں جاننے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔
محققین کے مطابق اچھی کارڈیو فٹنس سے 30 امراض اور قبل از وقت موت کا خطرہ 40 سے 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ روزانہ ہی کچھ منٹ کی ورزش کریں تاکہ ان سے 24 سے 48 گھنٹوں کے لیے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح میں بہتری آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضرورت نہیں کہ آپ پوری رفتار سے دوڑنا شروع کر دیں، بلکہ تیز رفتاری سے چہل قدمی بھی بہترین ثابت ہوسکتی ہے، مگر رفتار اتنی ہو کہ سانس پھول جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مگر اہم بات یہ ہے کہ ورزش کو معمول بنایا جائے کیونکہ اسے چھوڑنے کے بعد کارڈیو فٹنس میں تیزی سے کمی آتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Progress in Cardiovascular Diseases میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply