میرپور ڈھاکا میں بنگلا دیش اور پاکستان کے مابین 8 سے 12مئی 2026ء تک کھیلے گئے 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے پہلے معرکے سے ایک روز پہلے ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی بولے کہ اس بار ہم آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنا چاہیں گے۔
ٹیسٹ کے چوتھے دن کے اختتام پر جب بنگلا دیش نے دوسری اننگز میں 3 وکٹ کھو کر 152رنز بنائے تھے،ٹی 20 کپتان سلمان آغا بولے کہ اگر بنگلا دیش نے ہمیں 60 اوورز میں پانچویں دن 260رنز کا ہدف دیا، تو سمجھیں ٹیسٹ ہم جیت جائینگے۔
ٹیسٹ کے آخری دن بنگلا دیش کے کپتان نجم الحسن شنٹو نے دوسری اننگز 9 وکٹ پر 240 رنز پر ڈیکلیئرڈ کی اور پہلی اننگز کی 27 رنز کی سبقت کیساتھ ٹیسٹ جیتنے کے لیے پاکستان کو 268رنز کا ہدف دیا۔ جس کے جواب میں قومی کرکٹ ٹیم محض 163رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ اور بنگلا دیش نے پاکستان کو اپنی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ میچ میں 104 رنز سے شکست دے دی۔
اگست 2024 میں بنگلا دیش نے پاکستان کو پاکستان میں کھیلی جانیوالی ٹیسٹ سیریز میں 0-2 سے شکست دی تھی۔ مطلب ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پاکستان کے خلاف یہ مسلسل تیسری فتح ہے۔
شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم ڈھاکا میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود صرف ٹاس ہی جیتے، باقی ٹیسٹ کے پانچ دن 15 سیشنز کے دوران میزبان ٹیم کا پلڑا بھاری رہا۔
بنگلا دیش کے کپتان نجم الحسن شنٹو نے پہلی اننگز میں 101اور دوسری اننگز میں 87 رنز کی باری کھیلی، جس پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ پہلی اننگز میں بنگلا دیش کے ون ڈے کپتان آف بریک بولر مہدی حسن میراز نے 101/5 کی پرفارمنس پیش کی، تو دوسری اننگز میں دائیں ہاتھ کے تیز بولر ناہید رانا نے 5/40 کی پرفارمنس پیش کی۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ازان اویس نے ڈیبیو پر 103رنز کی اننگز کھیلی۔تو ٹیسٹ سے ایک رات پہلے بابر اعظم کی اچانک انجری کے سبب ٹیسٹ کھیلنے والے عبداللہ فضل نے دونوں اننگز میں نصف سینچریاں بنائیں۔ تجربے کار بولر محمد عباس نے ٹیسٹ کے دوران 48 اوورز کے دوران 127 رنز کے عوض 6 وکٹ اپنے نام کیں۔
لیکن ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ناکامی کے محرکات تجربے کار کھلاڑیوں کے غیر ذمے دارانہ روئیے اور ناقص کھیل سے جڑی دکھائی دے رہی ہے۔
سب سے پہلے تو ٹیم کے کپتان شان مسعود اور نائب کپتان سعود شکیل ہی کٹہرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں، جو ٹیسٹ میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
پھر لگتا ہے کہ پی ایس ایل 11 میں راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان اپنے کھیل پر گرفت نہیں کر پا رہے ہیں۔ بنگلا دیش کی پہلی اننگز میں وکٹوں کے پیچھے 20 بائے کے رنز، بطور وکٹ کیپر کیچ گرانا اور اسٹپمڈ ضائع کرنا، ان کی کوتاہی کی قیمت پاکستان ٹیم کو شکست کی صورت میں چکانا پڑی۔
دوسری اننگز میں سلمان علی آغا کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اسڑوک اور بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی کی غیر مؤثر بولنگ اور حسن علی پر اعتماد بے سود رہا۔ جب کہ تجربے کار اسپنر نعمان علی کے لیے میرپور ٹیسٹ وکٹوں کی سنچری کے حوالے سے ہی یاد گار رہا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply