حیدرآباد میں ہر سال تیزی سے آبادی میں اضافہ ہورہاہے لیکن 30 سال قبل تعمیر کیے جانے والے سرکاری اسپتالوں کو نہ تو اپ گریڈ کیا جاسکا اور نہ ہی کوئی بڑا سرکاری اسپتال قائم کیا جاسکا۔
40 لاکھ سے زائد آبادی کے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں کوئی نیا بڑا سرکاری اسپتال تعمیر نہیں کیا جاسکا، 30 سال قبل حیدرآباد، لطیف آباد اور قاسم آباد میں تعلقہ سطح پرتعمیر کیے جانے والے سیکنڈری ہیلتھ کیئر اسپتالوں،گورنمنٹ شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد، گورنمنٹ اسپتال قاسم آباد ور گورنمنٹ پریٹ آباد اسپتال کو ٹرشیری اسپتالوں کا درجہ نہ مل سکا۔
یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ اسپتال بڑے آپریشنز، آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور جدید مشینری کی سہولیات سے محروم ہیں، مریضوں کوعلاج کے لیے کراچی کے اسپتالوں کا رخ کرناپڑتا ہے، خود لیاقت یونیورسٹی اسپتال کو اندورن سندھ کے مریضوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ اسپتال کا درجہ نہ ہونے کی وجہ سے پروفیسرز اور جدید مشینری دستیاب نہیں۔
محکمہ صحت کے تحت چلنے والے ان اسپتالوں میں سہولیات کی کمی کے باعث تمام بوجھ سول اسپتال حیدرآباد پر منتقل ہو رہا ہے جس سے اس کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طورپر اسپتال تعیمیر کرے یا اسپتالوں کو اپ گریڈ کرے تاکہ عوام کو بنیادی اور جدید طبی سہولیات میسر آ سکیں۔


























Leave a Reply