گزشتہ برس ایک بڑے تنازع کا سامنا کرنے والے بھارت کے وائرل اور مقبول کامیڈین سمے رائنا کی مجموعی دولت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
حال ہی میں سمے نے تقریباً ایک برس بعد سوشل میڈیا پر کامیڈی اسپیشل شو ’اسٹل الائیو‘ کی ویڈیو جاری کی جس کے بعد عوام نے اس پر مثبت ردِ عمل دیا۔
گزشتہ چند برسوں میں بطور کانٹینٹ کریئیٹر، یوٹیوبر اور اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے نے تقریباً 140 کروڑ سے 215 کروڑ روپے کے درمیان دولت بنائی ہے۔
برانڈ اینڈورسمنٹس، یوٹیوب اشتہارات، سبسکرپشنز، دیگر اشتہارات اور عوامی تقریبات بھی ان کی بڑھتی ہوئی آمدنی کا حصہ ہیں۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق وہ سالانہ تقریباً 40 کروڑ روپے کماتے ہیں جس سے وہ بھارت کے سب سے زیادہ کمانے والے کریئیٹرز میں شامل ہوگئے ہیں، ان کی لگژری اشیاء میں ممبئی میں ایک شاندار گھر شامل ہے جہاں وہ رہائش پذیر ہیں جس کی مالیت تقریباً 2 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے اور اس میں جدید طرزِ تعمیر نمایاں ہے، اس کے علاوہ ان کا ایک آبائی گھر جموں و کشمیر میں بھی موجود ہے۔
گاڑیوں کے شوقین سمے رائنا کے پاس مشہور سیلیبریٹی گاڑی ٹوئٹا ویلفائر بھی ہے جس کی قیمت تقریباً 1.22 کروڑ بھارتی روپے یا اس سے زیادہ ہے۔
کامیڈین کے پاس فورڈ (تقریباً 90 لاکھ بھارتی روپے)، منی کوپر (تقریباً 45 لاکھ بھارتی روپے)، مرسڈیز بینز (تقریباً 1.1 کروڑ بھارتی روپے) اور ہونڈا سٹی (تقریباً 12 لاکھ بھارتی روپے) بھی موجود ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں گاڑیوں کا خاص شوق ہے۔
اس کے علاوہ ان کے پاس مہنگے کیمرے اور گیمنگ کنسولز جیسے جدید گیجٹس بھی موجود ہیں۔
سمے رائنا کا تنازع:
بھارت کے نوجوان اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے رائنا یوٹیوب پر شروع کیے گئے اپنے شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے تاہم ایک شو کے دوران یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کے نامناسب بیان نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا۔
’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں متنازع جملوں کی وجہ سے نا صرف سمے رائنا کو وہ پروگرام بلکہ پچھلے سارے پروگرام بھی ڈیلیٹ کرنا پڑے اور ان دونوں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج ہوئے۔
بعدازاں دونوں کو عدالتوں سے ریلیف ملا جس کے بعد اب سمے کی ایک بار پھر واپسی ہوئی ہے۔


























Leave a Reply