اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز میں آگ کیسے لگی تھی پہلی بار سارا منظر اے آر وائی نیوز سامنے لے آیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کو موصول ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پمز میں خوفناک آگ لمحوں میں پھیلی جس پر ڈیوٹی پر موجود ایک نرس نے ساتھی کو آگاہ کیا۔
پمز میں 6 بجکر 38 منٹ 20 سیکنڈ پر اچانک آگ پبلک جھپکتے ہی پھیل گئی اور آگ نے ایک منٹ 13 سیکنڈ میں کمرے کو لپیٹ میں لے لیا اس دوران ایک خاتون بھاگتے ہوئے آئی اور ایک نومولود کو بچایا جس کے بعد مزید 3 افراد بھاگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
اپر پہنا ہوا شخص سیڑھیوں سے نیچے کی جانب بھاگا، آگ پھیلتے ہی پہلے ایک اور پھر دوسرا کیمرا بند ہوگیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں کسی کو فائر ایکسٹنگو شر استعمال کرتے نہیں دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل پمز سانحے کے دوران اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے وزیراعظم نے ستارہ خدمت اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔
یہ پڑھیں: پمز سانحہ : ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، فوجداری کارروائی ہوگی
اسلام آباد میں خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو ستارہ خدمت کے اعزاز سے نوازنے اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں نرس رضیہ نورین کو بچے کی جان بچانے پر خراج تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نرس رضیہ نورین نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا بہترین ثبوت دیا، اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین پر قوم کو فخر ہے، ایسے فرض شناس لوگوں کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے
واضح رہے کہ چند روز قبل پمز میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے اور ایک بچی کو بچا لیا گیا، واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افراد کو معطل کرکے فوجداری کارروائی کی منظوری دی ہے۔
