اسلام آباد (29 اگست 2026): پمز کی نرسری میں آگ لگنے کے واقعے کی عبوری انکوائری رپورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پبلک کر دی گئی۔
پمز کی نرسری میں آگ لگنے کے باعث 14 نومولود جھلس کر جاں بحق ہوئے تھے۔ سانحے کی عبوری انکوائری رپورٹ آج وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ نرسری میں آگ لگنے کی درست تکنیکی وجہ تاحال حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
عبوری انکوائری رپورٹ کے مطابق پمز کی نرسری میں آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر لگی جو تیزی سے پھیلی اور تقریباً 2 منٹ میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی، آگ لگنے کے وقت نرسری میں موجود اسٹاف اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز میں ایک ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی اور 14 بچے جل کر راکھ ہوگئے، مصدق ملک
رپورٹ میں ایمرجنسی رسپانس اور ریسکیو آپریشن میں ممکنہ کوتاہیوں کی مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی جبکہ نرسری میں فائر سیفٹی، انخلا اور ایمرجنسی رسپانس کے ایس او پیز ناکافی قرار دیے گئے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ پمز کی نرسری میں منظور شدہ اور تربیت یافتہ فائر ایمرجنسی پلان کا ثبوت نہیں ملا، ایمرجنسی کال موصول ہونے اور ردعمل میں تقریباً 6 منٹ کا وقفہ سامنے آیا، سی ای ایس کی ایمرجنسی نوٹیفکیشن اور فائر رسپانس چین پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
عبوری انکوائری رپورٹ میں نرسری میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، ایمرجنسی لائٹس دیگر حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے اور فائر سیفٹی انتظامات کی جامع جانچ اور فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں 6 جولائی کے نرسنگ ہاسٹل آتشزدگی واقعے کے بعد دی گئی سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔
عبوری انکوائری رپورٹ کے مطابق گزشتہ واقعے کے بعد فائر سیفٹی اقدامات پر مؤثر عمل ہوتا تو نئے واقعے کے خطرات کم ہو سکتے تھے۔
رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران کے خلاف تادیبی کارروائی، نرسری کی نگرانی میں کوتاہی پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی، اور نجی سکیورٹی کمپنی کے معاہدے، تربیت اور فائر سیفٹی ذمہ داریوں کی جانچ کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں تحقیقات کمیٹی نے پمز نرسری آتشزدگی میں مجرمانہ غفلت کے پہلو کی مزید تحقیقات ضروری قرار دی، حتمی ذمہ داری کا تعین مزید تحقیقات اور شواہد کی جانچ کے بعد کیا جائے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ بعض اہم انتظامی و حفاظتی خامیاں پہلے سے موجود تھیں۔ رپورٹ میں پمز میں فائر سیفٹی کیلیے واضح ذمہ داریاں، ٹائم فریم اور تعمیلی نظام بنانے کی سفارش کی گئی۔
پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں فوری اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کی حتمی تکنیکی وجہ فرانزک اور مزید شواہد کی روشنی میں طے ہوگی، نرسری میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی کو محض ایک فرد کی غلطی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
