ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، ان کی شہادت پر ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی مذہبی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عالم بن گئے۔
بعدازاں وہ شاہ ایران کے خلاف جدوجہد میں ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کی جدجہد میں شامل ہوگئے اور ان کا شمار امام خمینی کے قریبی رفقا میں ہونے لگا۔ اس دوران وہ کئی برسوں تک روپوش رہے اور انہیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں 6 مرتبہ گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے انہیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کیا۔ 1980 سے 1981 کے دوران وہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
اس دوران ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دیاں ہاتھ بےکار ہوگیا۔
1981 میں انہیں ایران کا صدر منتخب کیا گیا، وہ اس عہدے پر 1989 تک رہے اور انہیں امام خمینی کی وفات پر اسلامی جمہوریہ ایران کا رہبر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص تھے اور اپنی شہادت تک 37 سال تک اس عہدے پر رہے۔
شہادت کے وقت ان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ عالم اسلام کی طاقت ور مذہبی اور سیاسی شخصیت تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ، ولی فقیہ اوردنیا بھر میں کروڑوں اہل تشیع مسلمانوں کے مرجع تقلید تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا دنیا کی اہم مزاحمتی تنظیموں پر گہرا اثرورسوخ تھا۔ انہوں نے اپنے پیش رو کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی تحریک کی سرپرستی کی اور فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا کے مظلوم اقوام اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف سرگرم مزاحمتی تنظیموں کی بھرپور مدد و حمایت کو مزید آگے بڑھایا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی اپنی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زاده سے 6 بچے ہیں جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ امریکی حملے میں ان کی ایک بیٹی،داماد، نواسا اور بہو بھی شہید ہوئیں۔


























Leave a Reply