Skip to content
  • Sunday, 22 February 2026
  • 2:16 PM
Dailymithan news logo
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • کاروبار
  • دنیا
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • Home
  • نواز شریف، اقتدار کے پس منظر میں قیادت

حالیہ پوسٹس

  • پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزار کا سخت ردعمل
  • حکومت سے کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے: شرجیل میمن
  • ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا تاریخی انسان بردار مشن ایک بار پھر التوا کا شکار
  • مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت جمع ہونے کے باوجود ایران کے ہتھیار نا ڈالنے پر ٹرمپ مایوس
  • ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
Headline تازہ ترین

نواز شریف، اقتدار کے پس منظر میں قیادت

DAILY MITHAN Feb 22, 2026 0


2018 ءکی ایک گرم صبح تھی، اسلام آباد میں سورج معمول سے کچھ زیادہ ہی تیز تھا، مگر اصل حدت موسم کی نہیں تھی، فضا میں سیاست کا تناؤ، الزام کی گرد اور ایک ایسے شخص کی پیشی کا بوجھ شامل تھا جو تین مرتبہ اس ملک کا منتخب وزیراعظم رہ چکا تھا۔ 

میں اس صبح اسلام آباد میں موجود تھا اور نواز شریف کے جانثار ساتھی ملک نور اعوان کے ساتھ احتساب عدالت پہنچا تھا، نواز شریف کی پیشی تھی، وقت آٹھ بجے کا بتایا گیا تھا مگر ہم صبح ساڑھے چھ یا سات بجے ہی عدالت کے باہر پہنچ چکے تھے۔ اس وقت ماحول نسبتاً پرسکون تھا، چند صحافی کیمرے سنبھالے کھڑے تھے، کچھ کارکن خاموشی سے انتظار کر رہے تھے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جن کے چہروں پر تجسس بھی تھا اور بے یقینی بھی، رش بڑھنے لگا۔

 سینیٹرز، سابق وزراء، ارکان اسمبلی، پارٹی رہنما اور عام شہری عدالت کے باہر جمع ہوتے گئے، ہر طرف سرگوشیاں تھیں، ہر چہرے پر ایک ہی سوال  تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے ؟ 

کچھ دیر بعد عدالت کے احاطے میں ایک حرکت سی محسوس ہوئی اور پھر میاں نواز شریف وہاں پہنچ گئے، درمیانہ قد، متوازن جسمانی ساخت، سرخ و سفید رنگت، نفیس لباس اور پُراعتماد چال، نہ کسی جلدی کے آثار، نہ کسی پریشانی کی جھلک، یہ وہ اعتماد تھا جو کسی ملزم کے چہرے پر نہیں ہوتا بلکہ وہ سکون تھا جو ایک ایسے انسان کے اندر ہوتا ہے جسے یقین ہو کہ اس پر لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں۔ 

ان کے ساتھ مریم نواز تھیں، باپ اور بیٹی ایک دوسرے کے لیے ڈھال بنے ہوئے، خاموش مگر مضبوط، اسی لمحے ہماری ملاقات ہوئی، نواز شریف نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، حال احوال پوچھا، یہ چند لمحے کسی عدالت کے باہر ہونے والی رسمی ملاقات نہیں لگ رہے تھے بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ایک سیاسی قیدی نہیں بلکہ ایک مطمئن شہری ہوں جو اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہے۔

 وہ عدالت کے اندر چلے گئے، کچھ دیر بعد وقفہ ہوا اور ایک بار پھر ملاقات کا موقع ملا، انہیں بتایا گیا کہ میں کالم لکھتا ہوں، مسکرا کر کہا کہ وہ میرے کالم پڑھتے ہیں اور جانتے ہیں، یہ محض رسمی جملہ نہیں تھا، لہجے میں خلوص اور اپنائیت صاف جھلک رہی تھی۔ 

اسی دوران کسی نے کہا کہ آپ کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے، اسے بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے، نواز شریف نے فوراً بات کاٹ دی اور کہا کہ نہیں، یہ میرے ملک کا معاملہ ہے، ہم اسے اپنے ملک کے قانون کے مطابق نمٹائیں گے، پاکستان پہلے ہے، یہ جملہ مختصر تھا مگر اس میں پوری سیاسی زندگی اور ایک مکمل ریاستی سوچ سمٹی ہوئی تھی۔

نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے وہ واحد وزیراعظم ہیں جنہیں تین مرتبہ اقتدار سے ہٹایا گیا، پہلی مرتبہ انیس سو ترانوے میں بدانتظامی، کرپشن اور اداروں سے محاذ آرائی کے الزامات لگا کر ان کی حکومت برطرف کی گئی، بعد میں سپریم کورٹ نے بحال کیا مگر سیاسی بحران اتنا شدید تھا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا۔ 

دوسری مرتبہ انیس سو ننانوے میں فوجی سربراہ کو برطرف کرنے اور طیارہ لینڈنگ کے تنازع کو بنیاد بنا کر آئین شکنی اور بغاوت کے الزامات لگے، نتیجہ فوجی قبضہ، قید اور جلاوطنی کی صورت میں نکلا۔

 تیسری مرتبہ دو ہزار سترہ میں پاناما پیپرز کے شور میں نہ کرپشن ثابت ہو سکی، نہ دولت کی منتقلی، آخرکار بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کو بنیاد بنا کر صادق اور امین نہ ہونے کا فیصلہ آیا اور وزارتِ عظمیٰ چھین لی گئی۔

اس کے بعد عمران خان کا دور آیا، یہ محض سیاسی اختلاف کا دور نہیں تھا بلکہ انتقامی سیاست اور قید و بند کا زمانہ تھا، پوری مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگا دیا گیا، نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کی تقریباً پوری مرکزی قیادت جیلوں میں تھی، کوئی دن ایسا نہیں تھا جب کسی رہنما کو عدالتوں میں پیش نہ کیا جا رہا ہو یا کسی کو گرفتار نہ کیا جا رہا ہو۔

 اسی دور میں بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہوا، شوہر قید میں، بیٹی عدالتوں میں اور سارا خاندان شدید اذیت کے عالم میں مگر اس سب کے باوجود نواز شریف کے لبوں پر ملک کے خلاف ایک لفظ تک نہ آیا۔

 نہ ریاست پر حملہ، نہ اداروں کے لیے تلخ جملہ انہوں نے ہر آزمائش میں خود کو قانون کے سامنے پیش کیا، عدالتوں میں حاضر ہوتے رہے اور سو سے زائد پیشیاں بھگتیں۔ یہ وہ صبر تھا جو سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

وقت بدلا، حالات نے کروٹ لی، سیاست کے موسم بدلتے رہے مگر نواز شریف کا طرزِ سیاست آہستہ آہستہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا، آج وہ اس مقام پر ہیں کہ اگر چاہتے تو خود وزیراعظم بنا سکتے تھے، مگر انہوں نے اقتدار کو انا پر ترجیح نہیں دی۔ 

انہوں نے شہباز شریف کو وفاق کی ذمہ داری دی اور مریم نواز کو پنجاب کی قیادت سونپی، آج پنجاب میں تیز رفتار ترقی، انتظامی بہتری، فیصلوں کی رفتار اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں نواز شریف کا وژن صاف جھلکتا ہے۔ 

وفاق میں استحکام نظر آتا ہے اور صوبے میں رفتار، اور پس منظر میں ایک تجربہ کار سیاستدان جو سامنے آئے بغیر رہنمائی کر رہا ہے، مشورے دے رہا ہے اور توازن قائم رکھے ہوئے ہے، نواز شریف کی سیاست پر اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید بھی مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر بار ہٹائے گئے مگر ٹوٹے نہیں، الزامات لگے مگر ملک کے خلاف نہ گئے۔

 آج پس منظر میں رہتے ہوئے ان کا وژن اور ان کی سیاسی حکمت عملی نہ صرف موجودہ حکومت کو اپنا آئینی دور مکمل کرنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ اگر اسی سوچ کو تسلسل ملا تو پاکستان ترقی پذیری سے نکل کر ترقی یافتہ ملک بھی بن سکتا ہے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔



Source link

DAILY MITHAN

Website: https://dailymithan.com

متعلقہ کہانی
تازہ ترین
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزار کا سخت ردعمل
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
حکومت سے کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے: شرجیل میمن
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا تاریخی انسان بردار مشن ایک بار پھر التوا کا شکار
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
تازہ ترین
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت جمع ہونے کے باوجود ایران کے ہتھیار نا ڈالنے پر ٹرمپ مایوس
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
تازہ ترین
ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
خیبر پختونخوا میں بلڈنگ پلان منظور، ریگولرائزیشن فیس مقرر
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
زارا نور نے بیسٹ فرینڈ سجل علی سے دوستی ختم ہونے پر خاموشی توڑ دی
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
بھارت میں تیز رفتار ٹریلر کی پولیس گاڑی کو ٹکر، 5 اہلکار ہلاک
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
گوگل کروم میں 3 بہترین فیچرز صارفین کیلئے متعارف
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
تازہ ترین
صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے مذاکرات میں اہم پیشرفت
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
چاقو حملے میں 18 سالہ برٹش پاکستانی جاں بحق
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
ہراسانی و استحصال کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہوں، ہانیہ کا حالیہ تنازع پر مؤقف
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
برنس روڈ پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، لیز تعمیرات گرانے پر شہری سیخ پا
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
لڑکے کا گرل فرینڈ پر بدترین تشدد، جسم پر سینیٹائزر لگا کر آگ لگادی
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
تازہ ترین
چیئرمین نیب کی تقرری کا معاملہ، پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایکشن پلان شیئر کردیا
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
زیر استعمال زیورات پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ، ٹرین میں قرآن کی تلاوت کرنیوالے بزرگ پر تشدد
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
شاہ چارلس کو انکے بھائی اینڈریو کی خفیہ ڈیلز سے 2019 میں ہی خبردار کردیا گیا تھا، ایپسٹین دستاویزات میں انکشاف
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
Headline تازہ ترین
علی امین گنڈاپور کیخلاف کارروائی کی باتیں من گھڑت ہیں: بیرسٹر گوہر
DAILY MITHAN Feb 22, 2026
تازہ ترین
پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیرکا بیان مسترد کردیا
DAILY MITHAN Feb 22, 2026

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حالیہ نیوز
پاکستان
ایم کیو ایم ، (ق) لیگ اور بی اے پی کا دہشتگردی کے خاتمےکیلئے فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان
DAILY MITHAN Feb 21, 2026
پاکستان
ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ
DAILY MITHAN Feb 21, 2026
پاکستان
وفاق کی 55 ہزار اسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں
DAILY MITHAN Feb 21, 2026
پاکستان
ملک میں غربت کی بنیادی وجہ 2018 سے 2022 تک کی معاشی بدحالی ہے: احسن اقبال
DAILY MITHAN Feb 20, 2026