سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کرسکیں۔
اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق منافقت کی گئی پہلے غلط معلومات فراہم کی گئی، سلمان صفدر کی جب ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا ان کی مرضی کے معالجین سے علاج ہونا چاہیے، بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں بند کی گئی تھیں، حکومت نے غلط بیانی کی۔
ان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی ٹیم لیڈر ہیں ان کا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہے، میری بانی پی ٹی آئی سے کم ملاقاتیں ہوئیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کےلیے باقی جو لوگ جاتے تھے غلط بیانی کرتے تھے، بانی پی ٹی آئی سے جب سیاسی ملاقاتیں بند ہوئیں تو حالات خراب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے آفیشل پیجز، بانی کے اکاؤنٹ اور چند افراد کے بار بار بیانات سے یہ سب چیزیں پیدا کی گئیں، تمام چیزوں کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے یہ ایجنڈا تھا جس پر تمام افراد کام کر رہے ہیں، میں نے کبھی بھی چھپ کر کوئی ملاقات نہیں کی، تنقید کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ اب بھی تو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، پہلے ان افراد کو ملاقاتیں غلط لگ رہی تھیں، اب درست لگ رہی ہیں، کیا ان افراد کے نظریے میں کوئی تبدیلی آگئی ہے وہی افراد جواب دے سکتے ہیں۔
علی امین کا کہنا تھاکہ کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد نام جاری کیے تو میری ٹرولنگ ہوئی، اگر اس پر کنٹرول نہ کیا تو پہلے بھی نقصان ہوا، آگے بھی نقصان ہوگا۔
علی امین کا کہناتھاکہ میں نے کبھی بھی چھپ کر کوئی ملاقات نہیں کی، تنقید کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ اب بھی تو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، پہلے ان افراد کو ملاقاتیں غلط لگ رہی تھیں، اب درست لگ رہی ہیں، کیا ان افراد کے نظریے میں کوئی تبدیلی آگئی ہے ، وہی افراد جواب دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کر سکیں، یہ ہماری کمزوری ہے، آج رہائی کے بجائے ملاقات تک کی نوبت آئی ہے یہ ہم سب کی کمزوری ہے، دنیا کا اصول ہے جو طاقتور ہوتا ہے اس کی بات مانی جاتی ہے، یہ دنیا کا اصول ہے کہ کمزور کو طاقتور کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے، محسن نقوی سے رابطے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ذاتی کام ہے کہ رابطہ کروں۔


























Leave a Reply