پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر ڈوگر نےکہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی ہوتے تو اسرائیل اور امریکا کو ایران پر حملے کی ہمت نہ ہوتی۔
قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن سے خطاب میں عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے ہمیں کھلاڑی اور اناڑی کہتے تھے اور خود کو مستری کہتے تھےکہ وہ ملک چلائيں گے، ہم مانتے ہیں ہر دور میں مداخلت ہوتی رہی ہے، اب وقت آگیا ہم اپنی اسپیس واپس لیں اور آگے بڑھیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ 90 ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان سے کاروبار ختم کیا ہے، یہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، ہم میثاق جمہوریت پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پی ٹی آئی رکن شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ یہ گزشتہ 5 بجٹس میں سب سے بدترین بجٹ ہے، اس بجٹ سے غریب مزید غریب ہوگا، ہمارے دور میں معیشت کی صورت حال بہتر تھی، یہ دو موروثی خاندانوں کا بجٹ ہے جو تباہی لائےگا، حکومت کہتی ہے 8400 کمانے والا غریب اور 8500 کمانے والا غریب نہیں، یہ منافقت ہے۔
پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ کا کہنا تھا کہ دفاعی اخراجات کے لیے اپنی جیب سےکمی کرتے ہوئے یہ پیسے ہم خوشی سے دیں گے، ہم اپنی افواج کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم نے سپر ٹیکس کو 500 ملین تک ختم کیا، 500 ملین سے زیادہ کی سلیب کو بھی ختم کریں کیونکہ یہ ٹیکس کےاوپر ٹیکس ہے۔
مرزا اختیار بیگ کا کہنا تھا کہ غریب نے سولر پینل قرض لےکر لگائے، پینل پر ٹیکس نہیں لیکن انورٹر پر ٹیکس لگا دیا گیا۔
پی پی رکن مہیش کمارمالانی کا کہنا تھا کہ بجٹ میں این ایف سی کو نہیں چھیڑا گیا، یہ پیپلزپارٹی کی کامیابی ہے، جب تک پیپلزپارٹی ساتھ دے گی تب تک یہ حکومت نہیں گرےگی، بجٹ میں تنخواہوں میں مزید اضافہ کرنا چاہیےتھا، اس وقت ملک میں روزگار کے حوالے سے مایوسی ہے، آئی ایم ایف سے نکلنا ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی طرف جانا ہوگا۔


























Leave a Reply