امراض قلب راتوں رات کسی فرد کو شکار نہیں بناتے بلکہ ایسا برسوں میں ہوتا ہے۔
روزمرہ کی چند عادات سے دل کے نظام کی صحت بتدریج متاثر ہوتی ہے۔
آپ کی غذا، نیند کا معمول، تناؤ اور دیگر چند عادات جان لیوا امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا شنار بنا دیتی ہیں۔
تو ان عام عادات کے بارے میں جانیں جو جان لیوا امراض قلب کا شکار بناتی ہیں۔
تمباکو نوشی
طبی ماہرین کےمطابق تمباکو نوشی سے دماغی شریانوں کو براہ راست نقصان پہنچتا ہے کیونکہ نائٹرک آکسائیڈ کی فراہمی گھٹ جاتی ہے۔
نائٹرک آکسائیڈ ایسا مرکب ہے جو بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور اس کی کمی سے ورم بڑھتا ہے جبکہ بلڈ کلاٹ کا سامنا ہوسکتا ہے۔
درحقیقت ایک یا 2 سگریٹس کا استعمال بھی امراض قلب کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا
ماہرین کے مطابق دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے مسلز کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جبکہ اعضا تک خون کی فراہمی بھی گھٹ جاتی ہے، جس سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
خون کی روانی متاثر ہونے سے میٹابولزم کے افعال بھی متاثر ہوتے ہیں اور ورم بڑھتا ہے اور یہ سب عناصر امراض قلب کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
ناقص نیند
6 گھنٹے سے کم نیند کو عادت بنانے سے بلڈ پریشر متاثر ہوتا ہے جبکہ تناؤ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھتی ہے جس سے ورم میں اضافہ ہوتا ہے اور خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔
یہ سب عناصر طویل المعیاد بنیادوں پر امراض قلب کا شکار بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
دائمی تناؤ
دائمی تناؤ سے کورٹیسول کی سطح مسلسل زیادہ رہتی ہے جس سے جسم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے ورم بڑھتا ہے، شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، انسولین کی مزاحمت بڑحتی ہے جبکہ شریانوں میں چربیلا مواد جمع ہونے لگتا ہے۔
وقت کے ساتھ یہ دائمی تناؤ امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
الٹرا پراسیس غذائیں
طبی ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے انسولین کی مزاحمت اور تکسیدی تناؤ بڑھتا ہے جبکہ شریانوں میں چربیلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس سے شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
ان تمام عناصر سے وقت کے ساتھ امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو نظر انداز کرنا
ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نمایاں علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں۔
اسی طرح کولیسٹرول کے باعث شریانوں میں چربیلا مواد جمع ہونے لگتا ہے اور یہ دونوں عناصر جان لیوا امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے اہم ترین عناصر ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply