ایچ بی ایل پی ایس ایل میں پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہےکہ ہر کپتان کی خواہش ہوتی ہے ٹرافی کو اٹھائے، یہی میری خواہش ہے، ہمیں اس کے لیے اچھی کرکٹ کھیلنا ہوگی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ کپتان پرفارم کرے تو یہ ٹیم کے لیے اچھا ہوتا ہے، تنقید کا کچھ نہیں کہہ سکتا، یہاں اس کا جواب نہیں دوں گا، پرفارم کروں تو تب بھی تنقید ہوتی ہے نہ کروں تب بھی ہوتی ہے، جس طرح لوگ چاہ رہے تھے یا جیسا میں چاہ رہا تھا ویسا پرفارم نہیں ہو رہا تھا، میں نے چیزوں کو سادہ رکھا ہے مائنڈ سیٹ بھی نارمل رہا، ہوم گراؤنڈ پرکھیلنے کا دباؤ نہیں ہوتا بلکہ حوصلہ ملتا ہے، سنا ہے ہاؤس فل ہوگا، ایسے میں پرفارم کرنے کا مزہ آتا ہے۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ فائنل کا دباؤ یقینی بات ہے، فینز کی وجہ سے پر جوش ہیں، فینز بھی انجوائے کریں گے، اچھا ہوا انہیں اجازت ملی،ہمارا کمبینیشن اور مومنٹم بنا ہوا ہے، اب لاہور میں کراچی کے مقابلے میں کنڈیشنز مختلف ہیں ہم نے اپنے پلان کے مطابق کھیلنا ہے، ہمیں تجربہ کار کھلاڑی دستیاب ہیں۔
کپتان پشاور زلمی کا کہنا تھا کہ علی رضا اور فرحان یوسف پاکستان کا مستقبل ہیں، پاکستان میں ٹیلنٹ بہت ہے لیکن اس کی شناخت کرنا ضروری ہے، فارمیٹ کے لحاظ سے شناخت کرنا ہے، یہ نہ ہو کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیلنٹ کو ٹیسٹ میں کھلائیں، ٹیلنٹ کو شناخت کرکے تمام مرحلوں کی کرکٹ کھلا کر انٹرنیشنل میں لانا چاہیے، انڈر 19، اے ٹیم میں کھلا کر قومی ٹیم میں لائیں تاکہ اسے پریشر کو ہینڈل کرنا آتا ہو۔
اوپنر کی حیثیت سےکھیلنےکے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے جو رول دیا گیا ہے میں اس کے مطابق کھیل رہا ہوں، ہر نمبرکا تقاضہ مختلف ہوتا ہے، جب آپ قومی ٹیم کی طرف سےکھیل رہے ہوں تو اس کا تقاضہ بھی مختلف ہوتا ہے، ٹیم کو جس نمبر پر آپ درکار ہو اس پرکھیلنا چاہیے۔
اس سوال پرکہ اگر پی سی بی کی جانب سے دوبارہ کپتانی آفر کی گئی، بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ بعد کی بات ہے، ابھی کل کے فائنل پر فوکس ہے، پاکستان کے مفاد میں جو ہو وہ ہونا چاہیے، یہ نہیں جو آپ چاہ رہے ہیں وہ ہو۔


























Leave a Reply