Preloader

اکثر مائیں چار سے چھ ماہ بعد سے بچے کو میٹھی اور ٹھوس غذا کھلانا شروع کردیتی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی عمر میں اس کے جسم کی مناسبت سے خوراک مہیا کی جائے، لیکن یاد رکھیں خوراک میں چینی کیا شکر کون سی ڈالنی ہے؟

بچے کی زندگی کے پہلے سال میں اس کی خوراک اس کی جسمانی، ذہنی اور دماغی نشوونما کی مضبوط بنیاد کیلیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، یہ ابتدائی خوراک بچے کو ملنے والی غذائیت اور تیز رفتار نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ساتھ ہی نظامِ انہضام کی بہتری اور مدافعتی صلاحیت مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

شکر کی اقسام

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں کی خوراک میں پائی جانے والی تمام اقسام کی شکر یکساں نہیں ہوتیں اور ان کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔

بھارت کے معروف ماہرِ اطفال اور نوزائیدہ بچوں کے معالج ڈاکٹر بی پرشانت بابو کے مطابق شیرخوار بچوں کی خوراک میں بنیادی طور پر لیکٹوز، سوکروز اور فرکٹوز جیسی شکر کا فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ان میں سے کچھ بچے کی نشوونما کے لیے مفید ہیں، جبکہ بعض کا غیر ضروری استعمال صحت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

لیکٹوز : ماں کے دودھ میں قدرتی شکر

لیکٹوز وہ قدرتی شکر ہے جو ماں کے دودھ اور عام فارمولا دودھ میں پائی جاتی ہے، یہ نوزائیدہ بچوں کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے اور جسمانی نشوونما کے ساتھ دماغ کی تیز رفتار ترقی میں بھی معاونت کرتی ہے۔

یہ کیلشیم کے جذب میں مدد دیتی ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ ماں کے دودھ میں موجود ہیومن ملک اولیگوسیکرائڈز (ایچ ایم اوز) آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش اور مدافعتی نظام کی بہتری میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

سوکروز : غیر ضروری مٹھاس

سوکروز عام استعمال ہونے والی سفید چینی ہے، جو گلوکوز اور فرکٹوز سے مل کر بنتی ہے۔ یہ ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتی اور شیرخوار بچوں کو اس کی اضافی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ بچوں کے بسکٹ، میٹھے سیریلز اور مشروبات کے ذریعے یہ شکر ان کی خوراک کا حصہ بن سکتی ہے۔

ماہرِ اطفال کے مطابق کم عمری سے میٹھی چیزیں کھانے کی عادت بچوں کی ذائقے سے متعلق ترجیحات تبدیل کرسکتی ہے، جس کے باعث وہ بعد میں سبزیوں اور کم میٹھے ذائقے والی صحت بخش غذاؤں سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹھی اشیا دانتوں کی خرابی اور غیر ضروری کیلوریز کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

فرکٹوز : پھلوں میں موجود شکر

فرکٹوز پھلوں اور شہد میں پائی جانے والی قدرتی شکر ہے، تقریباً 6 ماہ کی عمر میں ٹھوس غذا شروع ہونے کے بعد بچے کو پھل مسل کر دیے جاسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین جوس کے بجائے مکمل یا مسلے ہوئے پھل دینے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ ان میں موجود فائبر اور وٹامنز بھی بچے کو حاصل ہوتے ہیں۔

ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہیں دینا چاہیے، کیونکہ اس میں ایسے بیکٹیریا ہوسکتے ہیں جو شیرخوار بچوں میں بوٹولزم نامی خطرناک بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

 والدین کے لیے اہم ہدایات

ماہرین کے مطابق پہلے چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانا بہترین طریقہ ہے، اس کے بعد ٹھوس غذا متعارف کراتے ہوئے ایک وقت میں ایک پھل یا نئی غذا دی جائے تاکہ بچے کے ردعمل کا جائزہ لیا جاسکے۔ بچوں کے لیے تیار کردہ غذاؤں کے لیبل بھی ضرور دیکھیں تاکہ ان میں اضافی چینی، شہد یا سیرپ کی موجودگی کا پتا چل سکے۔

ڈاکٹر بی پرشانت بابو کا کہنا ہے کہ بچے میں گیس یا چڑچڑاپن کو فوری طور پر لیکٹوز کی عدم برداشت تصور نہیں کرنا چاہیے، فارمولا دودھ تبدیل کرنے سے پہلے ماہرِ اطفال سے مشورہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ابتدائی عمر میں متوازن غذائی عادات اپنانے سے بچوں کو مستقبل میں صحت بخش خوراک کی طرف راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نوٹ : مذکورہ مضمون میں شامل معلومات اور تجاویز صرف تعلیمی مقاصد کے لیے بیان کی گئی ہیں، براہ کرم ان سفارشات میں سے کسی پر عمل کرنے سے قبل کسی پیشہ ور معالج سے لازمی مشورہ کریں۔

گھر کا ماحول شیرخوار بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *