شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ سعدیہ امام کا کہنا ہے کہ ’درِ نجات‘ کا ابوبکر بننے کے لیے مردوں کی ویسے ہی تربیت ہونی چاہیے۔
سعدیہ امام باصلاحیت پاکستانی ٹیلی ویژن اداکارہ اور بہترین میزبان ہیں، انہوں نے کئی مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جبکہ وہ ٹی و شوز کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔
اداکارہ نے 2012 میں شادی کی اور اپنے شوہر عدنان کے ساتھ رہنے کے لیے جرمنی منتقل ہو گئیں جو پیشے کے اعتبار سے شیف ہیں اور اب وہ ایک پیاری سی بیٹی میرب کی والدہ ہیں۔
یہ پڑھیں: فلک شبیر ابوبکر کے بھی ’ابو‘ ہیں، سارہ خان
آج سعدیہ امام اے آر وائی ڈیجیٹل کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں مہمان تھیں شو کے دوران اداکارہ نے اس بات پر گفتگو کی کہ کس طرح لڑکیاں حقیقی زندگی میں بھی ’ابوبکر‘ جیسا ساتھی چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کل یہ ایک طرح کا جنون بن گیا ہے کہ لڑکیاں اکثر پوچھتی ہیں کہ ’ابوبکر‘ کیوں نہیں آتا؟ ابوبکر جیسا انسان بننے کے لیے مردوں کی ویسی ہی تربیت ہونی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ مستقبل کی ماؤں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں اپنے بیٹوں کی بہترین پرورش کرنا سیکھنا چاہیے ہم سب کو اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ آنے والی نسل کی لڑکیوں کو بھی اپنے ’ابوبکر‘ مل سکیں۔
میزبان ندا یاسر نے مزید کہا کہ یہ ڈرامہ کافی تاخیر سے بنا ہمیں ’درِ نجات‘ کی ضرورت اس سے کہیں پہلے تھی۔
