Preloader

بہادر شاہ جب حضرت محبوب الٰہی کے عرس شریف میں حاضر ہوتے تو بڑی کیفیت رہتی تھی۔ جب تک بادشاہ نہ آجاتے، ختم رکا رہتا۔ جونہی ان کی سواری آتی، غل مچ جاتا کہ بادشاہ آئے۔ خلقت کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوتے تھے مگر بادشاہ کے درگاہ میں داخل ہوتے ہی لوگ راستہ چھوڑ دیتے اور دروازے سے مزار مبارک تک ایک آدمی کے چلنے کے قابل راستہ بن جاتا تھا جس میں سے گزر کر بادشاہ پہلے مزار مبارک پر حاضر ہوتے۔ اس کے بعد محفل میں آجاتے۔

بادشاہ کے آتے ہی ختم شروع کر دیا جاتا اور ختم کے بعد قوالی شروع ہوتی۔ بادشاہ ایک غزل سنتے اس کے بعد محفل سے چلے جاتے۔ محفل سے اٹھتے وقت ایک عجیب بہار ہوتی تھی کہ جونہی بادشاہ نے چلنے کا رخ کیا، فوراً تمام میلہ کائی کی طرح سے پھٹ گیا اور درواز ے تک راستہ بن گیا۔

بہادر شاہ اگر غدر کی بلا میں مبتلا نہ ہوتے تو ان کی درویشی بڑے لطف و اطمینان سے بسر ہوتی مگر بیچارے ناکردہ گناہ باغی لشکر کے وبال میں پھنس گئے اور عمر کا آخری حصہ ہزاروں مصائب میں گزرا۔ میری والدہ ماجدہ بہ روایت اپنے پدر بزرگوار حضرت شاہ غلام حسن صاحب بیان فرماتی تھیں کہ جس دن بہادر شاہ دہلی کے قلعے سے نکلے تو سیدھے درگاہ حضرت محبوب الٰہی ؒ صاحب میں حاضر ہوئے۔ اس وقت بادشاہ پر عجب مایوسی اور ہراس کا عالم تھا۔ چند مخصوص خواجہ سراؤں اور ہوا دار کے کہاروں کے سوا کوئی آدمی ہمراہ نہ تھا۔ فکر و اندیشہ سے بادشاہ کا چہرہ اترا ہوا تھا اور گرد و غبار سفید داڑھی پر جما ہوا تھا۔ بادشاہ کی آمد سن کر نانا صاحب درگاہ شریف میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ مزار مبارک کے سرہانے در سے تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔

مجھ کو دیکھتے ہی حسبِ معمول بشرہ کو متبسم کر دیا۔ میں سامنے بیٹھ گیا اور خیریت دریافت کرنے لگا۔ جس کے جواب میں نہایت طمانیت سے بولے، میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ کمبخت باغی سپاہی خود سرے ہیں، ان پر اعتماد کرنا غلطی ہے۔ خود بھی ڈوبیں گے مجھ کو بھی ڈباویں گے۔ آخر وہی ہوا کہ بھاگ نکلے۔ بھائی اگرچہ میں ایک گوشہ نشین فقیر ہوں مگر ہوں اس خون کی یادگار جس میں آخر دم تک مقابلہ کرنے کی حرارت ہوتی ہے۔ میرے باپ داداؤں پر اس سے زیادہ آڑے وقت پڑے ہیں اور انہوں نے ہمت نہیں ہاری مگر مجھے تو غیب سے انجام دکھا دیا گیا ہے۔ اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ میں تختِ ہند پر تیمور کی آخری نشانی ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *