Preloader

واشنگٹن : دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مرض کینسر ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہے اس کے شکار زیادہ تر افراد عمر رسیدہ ہوتے ہیں لیکن اب جوان سال لوگ بھی اس میں مبتلا ہورہے ہیں۔

کینسر کو طویل عرصے سے عمر رسیدہ افراد سے منسلک بیماری سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں 50 سال سے کم عمر افراد میں مختلف اقسام کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ایک نئی طبی تحقیق میں اس رجحان کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ دور کے جوان افراد کی حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں کم عمری میں کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں ہونے والی اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع کیے گئے ہیں۔

تحقیق میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر نوجوان افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟ اور آیا عمر بڑھنے کے جسمانی عمل میں آنے والی تبدیلیاں اس رجحان سے کوئی تعلق رکھتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی شخص کی عمر صرف اس کی تاریخ پیدائش سے متعین نہیں ہوتی بلکہ جسم کی اندرونی حالت بھی عمر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ تاریخ پیدائش کی بنیاد پر شمار کی جانے والی عمر کو کرانولوجیکل ایج کہا جاتا ہے، جبکہ جسم کے خلیات، اعضا، میٹابولزم اور دیگر نظاموں کی حقیقی حالت سے متعلق عمر کو حیاتیاتی عمر قرار دیا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جینیاتی عوامل، طرز زندگی، جسمانی وزن، غذائی عادات اور دیگر ماحولیاتی عوامل حیاتیاتی عمر پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی حیاتیاتی عمر اس کی حقیقی عمر کے مقابلے میں تیزی سے بڑھنے لگے تو مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

محققین نے ایک لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جبکہ نتائج کا موازنہ تقریباً 10 ہزار افراد پر مشتمل ایک دوسرے گروپ سے بھی کیا گیا۔ تحقیق میں نسلوں کے درمیان حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے 1999 کے دوران پیدا ہونے والے افراد میں حیاتیاتی عمر بڑھنے کی شرح 1965 سے 1969 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کے مقابلے میں 92 فیصد زیادہ پائی گئی۔ محققین کے مطابق یہ فرق نوجوان نسل میں جسمانی عمر بڑھنے کے عمل میں نمایاں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے کے ساتھ کم عمری میں کینسر کا خطرہ تقریباً 8 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ تعلق خاص طور پر پھیپھڑوں اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق بعض اقسام کے کینسر میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی عمر میں اضافے کے اثرات جسم کے تمام اعضا پر یکساں نہیں ہوتے۔ بعض ایسے اعضا جنہیں کینسر کی مختلف اقسام سے زیادہ منسلک سمجھا جاتا ہے، ان میں حیاتیاتی عمر بڑھنے کے اثرات زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں۔

ماہرین نے اس حوالے سے طرز زندگی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ زیادہ جسمانی وزن، میٹابولک صحت میں خرابی، الکحل کا استعمال، طویل عرصے تک بیٹھے رہنا اور غیر صحت بخش غذائی عادات ایسے عوامل ہیں جو مختلف بیماریوں اور کینسر کی بعض اقسام کے خطرے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے اور نوجوان افراد میں کینسر کے بڑھتے خطرے کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

موجودہ نتائج کسی ایک وجہ کو کینسر کا حتمی سبب قرار نہیں دیتے بلکہ یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں کہ نوجوان نسل میں کم عمری کے کینسر کے بڑھتے رجحان کے پیچھے جسمانی عمر بڑھنے کے عمل کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *