Preloader

۱۹۲۲ء نومبر کی ۲۲ تاریخ کی دوپہر کو مصر کی وادیٔ شاہان (VALLEY OF THE KINGS) میں ایک فصیل سے مشابہ چونے کے پتھر کی ڈھلوان چٹان کے پاس دو اشخاص متحیر سے کھڑے تھے۔ ان کے سامنے ایک دروازہ تھا۔ جس کے بارے میں خیال تھا کہ اسے تقریباً ۳۳۰۰ سال قبل مہر بند کیا گیا تھا۔ اس کے لیے یہ بھی قیاس آرائیاں کی گئی تھیں کہ اس کے پیچھے موجود غار میں ایک ایسا عظیم الشان خزانہ موجود ہو سکتا ہے جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔

ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر تیس سال سے اس دروازے کے متلاشی تھے۔ ان کے ایک دولت مند ساتھی اور مددگار LORD CARNARVON جو عالم اور ریسرچ اسکالر بھی تھے، آٹھ سال سے اس خزانے کی کھوج میں قسمت آزمائی اور کارٹر کی حوصلہ افزائی کرتے آئے تھے۔

اس سلسلے میں پھینکا جانے والا یہ آخری پانسہ تھا۔ اگر اس دروازے کے پیچھے اُس فراموش شدہ نو عمر فرعونی سلسلے سے تعلق رکھنے والے بادشاہ توتن خامون کا مقبرہ نہ ملے تو لارڈ کارناروان کو یہ خوف تھا کہ وہ اس مؤقف میں نہیں رہیں گے کہ مزید اس اسکیم کی تلاش کے لیے سرمایہ فراہم کر سکیں۔ کارٹر نے بڑی احتیاط سے اس دروازے کے ایک کونے کو کاٹنا شروع کیا۔ جب کہ لارڈ کارناروان بالکل ان کے پیچھے ساکت و دم بخود کھڑے پلاسٹر کے اُڑتے ہوئے ذروں کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

پلاسٹر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کٹ کر نکلنے کے بعد جب سوراخ کچھ بڑا ہوا تو کارٹر نے ٹارچ کو کھولا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے روشنی سوراخ کے اندر ڈالی کچھ لمحات گزر گئے۔ لارڈ کارناروان نے متذبذب آواز اور سرگوشیانہ انداز میں کارٹر سے پوچھا، “کیا تمہیں اندر کچھ دکھائی دیا؟” کارٹر نے پلٹ کر لارڈ کارناروان کو دیکھا۔ ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں، انھوں نے رک رک کر کہا، “اندر وہ عجیب و غریب چیزیں نظر آئیں جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔”

کارٹر نے سوراخ کو کچھ اور کشادہ کیا تاکہ دونوں اندر کی جانب اچھی طرح دیکھ سکیں۔ ان کی بیٹریوں کی روشنی کمرے کے ایک دیوار کو جو گلابی رنگ کی تھی، روشن کر گئی۔ وہ کمرہ ۲۶ فٹ بائی ۱۲فٹ کا تھا۔ پہلی چیز جن پر اُن کی نظریں پڑیں وہ تین بڑے منقش کوچس تھے۔ جن میں سونے کے پتھروں سے بنے ہوئے گھوڑے لگے ہوئے تھے۔ جیسے ہی روشنی کو گھمایا گیا انسانی قد و قامت کے لکڑی سے بنے ہوئے کالے رنگ کے دو آدمیوں کے مجسمے ایک دروازے کے دونوں جانب کھڑے نظر آئے۔ جن کے چہروں کا رخ ایک دوسرے کی جانب تھا۔ انھیں مہر بند دروازے کے پاس اس طرح کھڑا کیا گیا تھا جیسے کہ وہ اس دروازے پر پہرہ دے رہے ہوں۔ ان مجسموں کے اسکرٹ نما لباس، زیور اور ان کے ہاتھوں میں موجود عصا اور ہتھیار سونے کے تھے۔ ان کے سروں پر جو کپڑا ٹوپی کی طرح لپٹا ہوا تھا وہ بھی سونے کا تھا۔ جس میں سامنے کی جانب قدیم مصر میں مقدس و متبرک سمجھا جانے والا ناگ سانپ پھن کھولے موجود تھا۔

جہاں جہاں روشنی پڑتی گئی یکے بعد دیگر دوسرے عجائبات سامنے آتے گئے۔ جڑاؤ کام کے مرصع زیورات اور جواہرات رکھنے کے صندوقچے، سفید پالش شدہ ALABASTER کے گل دستے، سونے سے بنے پلنگ، خوب صورتی سے تراشی ہوئی منقش کرسیاں، ایک شان دار شاہی تخت جس میں لگے ہوئے رنگین جواہرات ٹارچ کی روشنی میں چمک کر آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔ کئی موسیقی کے آلات، ان کے علاوہ بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے جن پر منڈھے ہوئے سونے کی چمک دمک ایسی تھی جیسے انھیں ابھی بنایا گیا ہو۔ وہاں کچھ بے کار چیزیں بھی موجود تھیں جیسے ایک آدھا بھرا ہوا پیالہ۔ جس میں دروازے کو مہر بند کرنے کے لیے استعمال ہونے والا سیال تھا۔ کسی مزدور کی انگلی کا نشان جو اُس نے شاید ٹیسٹ کرنے کے لیے رنگ کی ہوئی دیوار پر لگایا تھا اور بہت سی چیزیں فرش پر بکھری پڑی ہوئی تھیں۔ بے شمار زیورات، مصنوعات، فرنیچر، ملبوسات، میک اپ کے باکس اور ہتھیار بھی۔ اس عجیب و غریب نو دریافت شدہ مقبرے میں موجود نوادرات گویا اپنے وقت کے مصر کی زندگی کا ایسا مکمل نمونہ تھے جو حضرت عیسیٰ کی پیدایش سے ۱۳۵۰ سال قبل کی وہاں کی زندگی کے محفوظ مکمل ریکارڈ کو پیش کر رہے تھے۔

مشہور و معروف آثار قدیمہ کے ماہر پروفیسر جیمس نے کہا تھا کہ یہ دریافت ایسی عظیم اور لاثانی ہے جس کی مثال آثار قدیمہ کے تاریخی ریکارڈ میں دنیا کے کسی علاقے میں اب تک موجود نہیں مل سکی۔ یہی نہیں انھوں نے یہاں سے حاصل شدہ عجیب و غریب اشیاء کے خزانے کو ایسی بے مثال دولت کہا جو ہر زمانے میں ملنے والی پہلی تلاش کی حیثیت سے جانی جائے گی۔

توتن خامن کے مقبرے سے جو چیزیں دستیاب ہوئیں ان کی مکمل فہرست بنانے اور جس جگہ موجود تھیں وہاں سے ان کو قاہرہ کے میوزیم تک پہنچانے کے لیے دس سال کا عرصہ لگا۔ اس مقبرے میں چار کمرے تھے جنھیں ڈھلوان چٹان کے ایک بازو کو تراش اور کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ انھیں دیکھ کر محسوس کیا گیا کہ انھیں چھوا نہیں گیا ہے حالانکہ وہاں ایسے ثبوت بھی ملے کہ ان دو کمروں میں مقبروں کے چور تدفین کے کچھ عرصے بعد ہی داخل ہوئے تھے۔ کیونکہ ڈھیروں زیورات فرش پر بکھرے پڑے تھے۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ چور اس سے قبل کہ اپنے لوٹے ہوئے سامان کو لے کر باہر نکلتے شاید انھیں انتہائی عجلت میں باہر نکل جانا پڑا ہوگا اور اس مقبرے کے دروازوں کو مہر بند کر دیا گیا۔ توتن خامن کی تدفین جس کمرے میں عمل میں آئی تھی اس کے دروازے پر ہتھیار سے لیس جو پہرے داروں کے مجسموں کو کھڑا کیا گیا تھا۔ انھیں اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں گیا تھا۔ اس کمرے کے اندر ہی سب سے قیمتی خزانہ موجود ملا۔ چار سونے سے بنے ہوئے باکس جو ایک سنگی تابوت میں ایک کے اندر ایک رکھے ہوئے تھے اور سب سے اندر رکھا ہوا تابوت خالص سونے سے بنایا گیا تھا جس میں ۱۸ سالہ توتن خامن کے چھوٹے سے فانی ممی شدہ جسم کو رکھا گیا تھا۔ جو ایک بہت بڑے افسردہ دکھائی دینے والے خاموش سے سونے کے رنگین ماسک میں بند تھا۔ جس میں قیمتی جواہرات لگے ہوئے تھے اور ماسک پر اس کے چہرے کی تصویر منقش تھی۔ اس کی گردن اور سینے پر موتیوں کی مالاؤں کے ساتھ، بھٹے، للّی اور کنول کے پھولوں کے مرجھائے اور سوکھے ہوئے ہار بھی تھے جن میں ہلکا سا رنگ باقی تھا۔ اس کے ساتھ کچھ خاص خیالات بھی تحریر شدہ تابوت میں رکھے ہوئے ملے جو شاید اس کی کمسن بیوی ANKHESNAMEN نے تابوت کے ڈھکن کو بند کرنے سے قبل رکھے ہوں گے۔ ایک تصویر جو مقبرے کے اندر کی دیوار پر اتاری گئی تھی اس میں توتن خامن کو دو خداؤں کے درمیان کھڑا ہوا اتارا گیا تھا۔ جو اسے موت کے بعد کی دنیا میں لے جانے والے تھے۔ اس تصویر میں وہ بہت دل کش دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے سر پر کالے بالوں کی وگ تھی اور گلے میں زیورات، اسے انتہائی نرم و نازک مہین مصری لینن میں ملبوس دکھایا گیا تھا۔

۱۹۲۲ء میں دنیا کے لوگ توتن خامن کے مقبرے کی دریافت کے بارے میں جان کر حیران رہ گئے۔ سیکڑوں اخبارات کے رپورٹرس لکژر کے مقام پر پہنچنے لگے۔ شائقین، سیاحوں کے گروہ کے گروه اس مقام پر ایسے آن پڑے جیسے کہ سولجر چونٹیوں کے جتھے ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ مصر میں کئی عظیم اور شان دار مقبرے موجود ہیں جنھیں دیکھا جاسکتا ہے لیکن لکژر نئے شہر کی صورت اختیار کر گیا جو قدیم شہر THEBES سے ۴۵۰ میل پر قاہرہ کے جنوب میں واقع ہے۔ وہاں ملنے والے توتن خامن کے مقبرے کو سب سے زیادہ جاذب توجہ اور پرکشش سمجھا گیا۔ دنیا بھر کے لوگوں کی نظروں کو اس کمسن بادشاہ کی سونے کے ماسک میں بند ممی، تابوت اور اس کے مقبرے کے خزانے کی چمک دمک خیرہ کرتی رہی۔

(ڈاکٹر اختر سلطانہ کی کتاب اوراقِ ماضی سے اقتباس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *