سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کرکٹر شاہین شاہ آفریدی پر ایک دستاویزی فلم (ڈاکیومنٹری) رواں ماہ ریلیز ہونے والی ہے، جسے مبینہ طور پر لاہور قلندرز اور جیو نیوز نے تیار کیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس دستاویزی فلم کا مبینہ پوسٹر بھی شیئر کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جلد ریلیز ہونے والی ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔ ایسی کوئی دستاویزی فلم نہیں بن رہی ہے۔
دعویٰ
23 مارچ کو صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک مبینہ پوسٹر شیئر کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شاہین آفریدی پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم 30 مارچ کو ریلیز ہونے والی ہے۔
صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “اس میں شاہین آفریدی کی کہانی میدان کے اندر اور باہر، دونوں حوالوں سے دکھائی جائے گی۔” پوسٹ کے ساتھ موجود تصویر پر “ایگل” (Eagle) کا عنوان درج تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے جیو نیوز اسٹوڈیوز اور لاہور قلندرز نے تیار کیا ہے۔
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو 3 ہزار 635 دفعہ دیکھا اور اسے 61 دفعہ لائک کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے دیگر پوسٹس میں بھی یہاں، یہاں اور یہاں شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
پاکستانی کرکٹر شاہین شاہ آفریدی پر ایسی کوئی ڈاکیومنٹری تیار نہیں کی جا رہی جسے لاہور قلندرز بنا رہا ہو یا جیو نیوز پیش کر رہا ہو۔
لاہور قلندرز کے ایک ترجمان نے فون پر جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ نہ تو شاہین شاہ آفریدی اور نہ ہی فرنچائز اس طرح کے کسی منصوبے سے واقف ہیں۔
اس کے علاوہ، جیو نیوز کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چینل کی جانب سے ایسی کسی دستاویزی فلم کو نہ تو تیار کیا جا رہا ہے اور نہ ہی پیش کیا جا رہا ہے۔
آزادانہ تصدیق کے ذریعے، جیو فیکٹ چیک نے معلوم کیا ہے کہ وائرل ہونے والا پوسٹر تبدیل شدہ ہے۔ اصل تصویر بالی ووڈ فلم ‘دھرندھر’ (Dhurandhar) کی ہے، جسے جیو نیوز کی برانڈنگ اور آفریدی کا نام شامل کرنے کے لیے ایڈٹ کیا گیا ہے۔
بالی ووڈ فلم ‘دھرندھر’ کا اصل پوسٹر یہاں دیکھا جا سکتا ہے:
فیصلہ: یہ دعویٰ کہ شاہین شاہ آفریدی پر “ایگل” (Eagle) کے نام سے ایک دستاویزی فلم لاہور قلندرز تیار کر رہا ہے، سراسر غلط ہے۔ لاہور قلندرز اور جیو نیوز دونوں کے افسران نے اس طرح کے کسی بھی منصوبے میں شامل ہونے کی تردید کی ہے، اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وائرل ہونے والا پوسٹر ایک غیر متعلقہ بالی ووڈ فلم کے پوسٹر کو ڈیجیٹل طور پر ایڈٹ کر کے بنایا گیا ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply