پاکستان کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں سیاسی اختلاف صرف بیانات اور جلسوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں اس وقت یہی حالات ہے۔ ایک طرف صوبے کو دہشت گردی، بدامنی، معاشی مشکلات اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، دوسری طرف وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان سے ملاقاتوں، ان کے علاج اور خاندان کے افراد سے ملنے اور بات چیت کرنے کے معاملے سمیت دیگر مطالبات کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ یہ مارچ 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق مارچ پشاور سے شروع ہوگا۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس نے سیاسی رابطے اور قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر مطلوبہ پیش رفت نہیں دیکھی۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے، جس کے بارے میں PTI کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ہر ہفتے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی نمائندوں سمیت 18 افراد کو ملاقات کی اجازت ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جو اب ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک
لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل ہونا بظاہر ایک سیاسی فیصلہ ہے، لیکن اس کا پس منظر اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا کہ سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے بعد مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع ہوگا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ اسلام آباد میں راستوں کی بندش، کنٹینرز، پولیس اور رینجرز کی تعیناتی سمیت متعدد اقدامات کیے گئے۔ حکومت کا نقطۂ نظر امن و امان برقرار رکھنا اور دارالحکومت کو کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ PTI ان اقدامات کو سیاسی سرگرمی روکنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کس کا نقطۂ نظر درست ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک سیاسی تنازع کو اس حد تک بڑھنا چاہیے کہ اس کی قیمت عام شہری ادا کرے؟
جب سیاسی تنازع کا اثر سڑک پر نظر آئے
خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت ایک معمول ہے۔ ہزاروں افراد روزانہ روزگار، تعلیم، کاروبار، علاج، سرکاری امور اور دیگر ضروریات کے لیے ایک صوبے سے دوسرے صوبے کا سفر کرتے ہیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں میں بھی خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔
اگر راستے بند ہوں، ٹرانسپورٹ رک جائے یا سفر غیر یقینی کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر صرف سیاسی کارکنوں پر نہیں پڑتا۔ ایک مریض جسے لاہور، راولپنڈی یا اسلام آباد کے کسی اسپتال جانا ہے، اس کے لیے سیاسی کشیدگی ایک حقیقی مشکل بن جاتی ہے۔ ایک مزدور جس کی روزانہ کی اجرت سفر رکنے سے ختم ہو جائے، اس کے لیے یہ محض سیاسی خبر نہیں رہتی۔ ایک سرکاری ملازم جو دوسرے شہر میں ملازمت کرتا ہے، ایک طالب علم جو روزانہ سفر کرتا ہے، ایک تاجر جس کا مال ایک صوبے سے دوسرے صوبے جاتا ہے، یا ایک مسافر جس کی پرواز اسلام آباد سے ہے، سب اس صورتِ حال سے متاثر ہوتے ہیں۔
اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کمزور کاروباری سرگرمیوں کے دباؤ میں ہے۔
کشیدگی کے ساتھ ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے
سیاسی بیانات میں سختی ضرور دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ احتجاج اور مارچ سے امن و امان خراب نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ PTI اپنے مطالبات پر قائم ہے اور لانگ مارچ کو سیاسی جدوجہد قرار دے رہی ہے۔ لیکن سخت سیاسی بیانات کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ مختلف سطحوں پر رابطے اور پسِ پردہ سیاسی مشاورت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے رابطے اور مذاکرات کی دعوت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اگرچہ مختلف فریق ان رابطوں کی نوعیت اور پیش رفت کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاید سیاست کو تصادم سے نکال کر مکالمے کی طرف لے جانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی کا 24 گھنٹے والا مؤقف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں، جس میں راقم بھی موجود تھا، یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو PTI دوبارہ 24 گھنٹے کی کال پر لانگ مارچ شروع کر سکتی ہے۔
ساتھ ہی ان کی گفتگو میں ایک دوسرا پہلو بھی نمایاں تھا: اگر وفاقی حکومت افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہے تو ایک ہفتے کی مہلت میں بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات میں عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج کے لیے مناسب طبی سہولت، بشریٰ بی بی کے علاج اور اہلِ خانہ سے ملاقاتیں شامل ہیں۔
یہ مطالبات درست ہیں یا ان میں سے کون سا مطالبہ کس قانونی یا انتظامی دائرے میں آتا ہے، اس کا فیصلہ متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو کرنا ہے۔ لیکن سیاسی سطح پر یہ سوال ضرور موجود ہے کہ کیا ان معاملات کو سڑکوں کے بجائے میز پر حل کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے؟
عدالت کے فیصلے اور سیاسی راستے
اس تنازع کا ایک اہم پہلو عدالتی احکامات کا احترام بھی ہے۔ اگر کسی عدالت نے ملاقاتوں یا دیگر بنیادی قانونی معاملات کے بارے میں کوئی واضح حکم دیا ہے تو اس پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں اور احتجاج کرنے والے کارکنوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں۔
یہ دونوں اصول ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ریاست قانون پر عمل کرے اور سیاسی جماعتیں بھی قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد کریں۔ یہی وہ توازن ہے جو موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تصادم کا سب سے بڑا نقصان کس کو ہوگا؟
اگر سیاسی کارکن اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہتا۔ آنکھوں میں آنسو گیس کا اثر ہو، گرفتاری ہو، کارکن زخمی ہوں یا پولیس اہلکار زخمی ہوں—دونوں طرف پاکستانی شہری ہی ہوتے ہیں۔ ایک سیاسی کارکن کے گھر میں بھی ماں، باپ، بیوی، بچے اور بہن بھائی ہوتے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار بھی اسی معاشرے کا فرد ہے، جس کے گھر والے اس کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔ اس لیے سیاسی اختلاف کو اس مقام تک لے جانا جہاں ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے کے مدِمقابل آ جائیں، کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں۔
اور پس منظر میں دہشت گردی؟
اس تمام سیاسی کشیدگی کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے شدید چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں صوبے میں دہشت گردوں کے حملوں اور بدامنی کے واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس وقت سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی میں اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں؟
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت، پولیس، سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کو مکمل توجہ درکار ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی بحران بھی شدت اختیار کرتا ہے تو ریاستی توجہ اور انتظامی صلاحیت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکے ہیں۔ انہیں مزید سیاسی یا انتظامی محاذ آرائی کے بجائے امن، کاروبار، روزگار، تعلیم اور معمول کی زندگی کی ضرورت ہے۔
ایک ہفتہ بہت کچھ بدل سکتا ہے
اب جبکہ لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کر دی گئی ہے، سیاسی قیادت کے پاس ایک محدود مگر موقع ضرور موجود ہے۔ یہ ایک ہفتہ سیاسی مخالفین سے نمٹنے کی تیاری میں بھی استعمال ہو سکتا ہے، اور اسے مذاکرات اور مفاہمت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی مطالبات کو سیاسی اور قانونی فورمز پر سنے۔
پی ٹی ائ کے پاس بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے آئینی اور پُرامن راستہ اختیار کرنے کی اپنی یقین دہانی کو عملی شکل دے۔ اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہو جائیں تو شاید ایک ایسے تصادم سے بچا جا سکتا ہے جس کا نقصان بالآخر سیاسی قیادت سے زیادہ عام شہری کو ہوگا۔
سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت
پاکستان اس وقت صرف سیاسی بحران کا سامنا نہیں کر رہا۔ دہشت گردی کا خطرہ بھی موجود ہے، معیشت دباؤ میں ہے، مہنگائی عام آدمی کے لیے مسئلہ ہے، روزگار کے مواقع محدود ہیں اور کاروباری طبقہ بھی مشکلات سے دوچار ہے۔ اس ماحول میں سیاسی گرما گرمی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے یہ کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست کا معاملہ نہیں رہ جاتا بلکہ اب کشیدگی کم کرنے، قانون کی بالادستی قائم رکھنے اور سیاسی اختلاف کو سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
راستے بند کرنے سے شہروں کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں، لیکن سیاسی اختلاف کا مستقل حل راستے بند کرنے میں نہیں، راستہ نکالنے میں ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے راستے کھلے رہیں، ان کے کاروبار چلیں، ان کے مریض اسپتال پہنچ سکیں، ان کے بچے اسکول جائیں، مزدور کو روزگار ملے اور سیاسی اختلاف کا بوجھ ان کی روزمرہ زندگی پر نہ پڑے۔
آخرکار سیاست کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ریاست مضبوط ہو، قانون کی بالادستی قائم ہو اور عام شہری سکون سے اپنی زندگی گزار سکے۔
( بلاگر یا مضمون نگار کے نقطۂ نظر سے ادارے اور اس کی پالیسی سے تعلق نہیں)
