23 ستمبر کو خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دی۔ حکومت اسے اصلاحات قرار دے رہی ہے، لیکن قانون کے متن کو پڑھیں تو یہ پرانے طرزِ عمل کی واپسی دکھائی دیتی ہے۔ اس ایکٹ کے ذریعے وہ اختیارات، جو پولیس سربراہ کو حقیقی کمانڈر بناتے ہیں، وزیراعلیٰ کے دفتر اور صوبائی سیکریٹریٹ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا انسپکٹر جنرل باقی رہ جاتا ہے جو وردی تو پہنتا ہے، مگر اپنے افسران کا انتخاب نہیں کر سکتا۔
یہ کوئی نیا تصور نہیں۔ نوآبادیاتی ریاست نے بھی پولیس کا نظام اسی اصول پر استوار کیا تھا کہ پولیس قانون کے بجائے اقتدار رکھنے والوں کو جواب دہ ہو۔
ایکٹ میں کیا تبدیل کیا گیا؟
تفصیلات اہم ہیں، کیونکہ اصل نقصان انہی شقوں میں پوشیدہ ہے۔
نئے قانون کے تحت سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، سینئر سپرنٹنڈنٹس اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز کی تعیناتی اور تبادلے وزیراعلیٰ کریں گے۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے انتخاب کی منظوری بھی وزیراعلیٰ دیں گے۔
ڈپٹی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس کے تبادلے ہوم سیکریٹری کریں گے، جو ایک سول سرونٹ ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتیوں کے نوٹیفکیشن ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے جاری ہوں گے۔
پہلے پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی آئی جی پولیس کرتے تھے، اب اس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے۔ سالانہ صوبائی پولیسنگ پلان کی بھی وزیراعلیٰ سے منظوری لینا ہوگی۔
اگر حکومت آئی جی کی کارکردگی سے ’’مطمئن نہ ہو‘‘ تو وہ وفاق سے نئے نام طلب کر سکتی ہے۔ بدعنوانی یا بدانتظامی کے معاملات میں حکومت آئی جی کی خدمات واپس لینے کے لیے بھی اقدام کر سکتی ہے۔
سب سے زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ پولیس اب عدالت میں اپنے نام سے جواب نہیں دے سکے گی۔ ہر جواب پہلے محکمہ قانون اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر سے کلیئر کرانا ہوگا۔
ان تمام شقوں کو ایک ساتھ رکھیں تو نتیجہ واضح ہے۔ کاغذ پر آئی جی کے پاس ’’آپریشنل کنٹرول‘‘ برقرار رہتا ہے، لیکن افسران کی تعیناتی اور تبادلوں پر اختیار کے بغیر کمان صرف ایک عہدہ رہ جاتی ہے۔
ایک ضلعی پولیس افسر، جو جانتا ہو کہ اس کا تبادلہ وزیراعلیٰ کے دفتر اور ہوم سیکریٹری کی فائل پر منحصر ہے، وہ اپنے کمانڈ چین کے بجائے انہی دفاتر کی طرف دیکھے گا۔
عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے
یہ صوبے کی جانب سے ایسی پہلی کوشش نہیں ہے۔
2024 میں خیبر پختونخوا نے معروف پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتیوں کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری لازمی قرار دی تھی۔
فروری 2026 میں پشاور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے ان ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں بینچ نے قرار دیا کہ ان ترامیم نے ’’ایک پیشہ ور پولیس سروس کے لیے ناگزیر آپریشنل خودمختاری کو ختم کر دیا‘‘۔
عدالت نے کہا کہ پولیس کو ’’قانون کے خادم کے بجائے سیاسی مصلحت کے آلہ کار‘‘ کے طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے غیر سیاسی اور فعال طور پر خودمختار پولیس کو ’’آئینی ضرورت‘‘ قرار دیا، نہ کہ محض انتظامی سہولت۔
عدالت کے مطابق پولیس کا اندرونی انتظام، آپریشنز، تعیناتیاں اور تبادلے آئی جی کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں، جبکہ حکومت کا کردار نگرانی اور عمومی رہنمائی تک محدود ہونا چاہیے۔
سات ماہ بعد صوبے نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا بلکہ اس سے بچنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی ہے۔
2017 کے قانون میں ترمیم کرنے کے بجائے حکومت نے اسے منسوخ کرکے نئے نام سے وہی شقیں واپس لانے کی کوشش کی ہیں جنہیں عدالت غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
جب کسی حکومت کا آئینی عدالتی فیصلے کا جواب اسی قانون کو نئے انداز میں دوبارہ پیش کرنا ہو تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد اصلاحات نہیں بلکہ کنٹرول ہے۔
نوآبادیاتی نظام کی واپسی
یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ معاملہ کیوں اہم ہے، ہمیں 1861 میں واپس جانا ہوگا۔
1857 کی بغاوت کے بعد برطانوی حکومت کو ایسی پولیس فورس درکار تھی جو عوام کے حقوق کے تحفظ کے بجائے تاجِ برطانیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھے۔
پولیس ایکٹ 1861 نے ’’دوہری نگرانی‘‘ پر مبنی پولیس نظام قائم کیا۔ پولیس افسر فورس کے اندرونی معاملات دیکھتا تھا، جبکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، جو کلکٹر بھی ہوتا تھا اور ضلع کا چیف ایگزیکٹو بھی، پولیس کو ہدایات دیتا تھا۔
ایک ہی افسر محصولات وصول کرتا، مقدمات سنتا اور پولیس فورس کی کمان بھی کرتا تھا۔
انتظامی، عدالتی اور پولیس اختیارات کو ایک ہی ہاتھ میں رکھنا اسی نظام کا بنیادی مقصد تھا۔ ایک سلطنت ان لوگوں کے ساتھ اختیار تقسیم نہیں کرتی جن پر وہ حکومت کرتی ہے۔
آزادی کے بعد پرچم تو تبدیل ہوگیا، لیکن یہ انتظام برقرار رہا۔
پولیس آرڈر 2002 اور، اس سے زیادہ جرات مندانہ انداز میں، خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 نے اس نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
2017 کے قانون نے آئی جی کو حقیقی انتظامی اور مالی اختیارات دیے۔ پبلک سیفٹی اور شکایات کے نظام قائم کیے گئے اور کمیونٹی کی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے کونسلیں تشکیل دی گئیں۔
اس قانون کا وعدہ سادہ تھا: پیشہ ورانہ پولیسنگ، سیاسی دباؤ سے تحفظ اور آزاد نگرانی کے ذریعے جواب دہی۔
کچھ عرصے تک خیبر پختونخوا پولیس کو پورے پاکستان میں اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا کہ پولیس اصلاحات کامیاب ہوسکتی ہیں۔
2026 کا ایکٹ اسی وعدے کو واپس لے رہا ہے۔
یہ اختیار دوبارہ ان ہی دو حلقوں کو دے رہا ہے جو ہمیشہ ایک آزاد پولیس کی مخالفت کرتے رہے ہیں: وہ سیاست دان جو اپنے تابع پولیس فورس چاہتے ہیں، اور وہ انتظامی افسران جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کی سابقہ بالادستی ختم ہونے کو کبھی مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔
انتظامی کیڈر کے بعض حلقوں کے لیے پولیس پر کنٹرول صرف نصف مقصد ہے۔ دوسرا مقصد ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی اور اس نظام کو واپس لانا ہے جس میں ضلعی افسر کے پاس انتظامی اور عدالتی دونوں اختیارات ہوتے تھے۔
یہی وہ اختیارات کا امتزاج تھا جسے آئین میں عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنے کے اصول کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک ایسا سیکریٹریٹ جو پولیس کمانڈ کرنے والے افسر کا فیصلہ کرے، اور ایک ایسی ضلعی انتظامیہ جو مجسٹریٹ کے اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش رکھتی ہو، مل کر جدید زبان میں نوآبادیاتی نظام کی دوبارہ تعمیر کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات برقرار ہیں اور ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔
نوآبادیاتی ذہنیت، تبدیلیوں کی ناگزیریت کے باوجود، وراثت کے نام پر ان تبدیلیوں کی مزاحمت کر رہی ہے، لیکن اس کی قیمت عوامی خدمت اور پیشہ ورانہ نظام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
دوسرے ممالک کیا کرتے ہیں؟
کوئی یہ نہیں کہتا کہ پولیس کسی کو جواب دہ نہ ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ پولیس کس کو اور کس مقصد کے لیے جواب دہ ہو۔
ترقی یافتہ جمہوریتوں نے اس معاملے کو ایک بنیادی فرق کے ذریعے طے کیا ہے: منتخب حکومتیں پالیسی، بجٹ اور ترجیحات طے کرتی ہیں، جبکہ پولیس سربراہ آپریشنل معاملات چلاتا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں منتخب پولیس اینڈ کرائم کمشنرز ترجیحات طے کرتے ہیں اور چیف کانسٹیبل سے جواب طلب کرسکتے ہیں، لیکن قانون چیف کانسٹیبل کی آپریشنل خودمختاری، بشمول افسران کی ہدایات اور کمان، کا تحفظ کرتا ہے۔
جاپان میں پولیس کو پبلک سیفٹی کمیشنز کے ماتحت رکھا گیا ہے تاکہ کوئی ایک وزیر براہِ راست پولیس کو ہدایات نہ دے سکے۔
پختہ جمہوری نظاموں میں نگرانی متعدد اداروں، شفاف اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے ہوتی ہے۔ پارلیمان، آزاد انسپکٹریٹس، شکایات کے ادارے اور عدالتیں اس نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔
اختیارات ایک ایسے دفتر میں مرکوز نہیں کیے جاتے جو خود سیاسی طور پر منتخب حکومت کا حصہ ہو۔
خیبر پختونخوا کا نیا قانون اس فرق کو ختم کرتا ہے۔ یہ نگرانی کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ نگرانی کی جگہ اختیار اور ملکیت کا تصور لے آتا ہے۔
حکومت کا مؤقف اور اس کی خامی
ایکٹ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ 9 مئی 2023 کے بعد چھاپوں اور گرفتاریوں کے دوران پولیس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، اس لیے منتخب قیادت کے پاس ایک طاقتور پولیس فورس کو روکنے کے اختیارات ہونے چاہئیں۔
پولیس کا اختیارات کا غلط استعمال ایک حقیقی مسئلہ ہے اور اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔
لیکن اختیارات کے غلط استعمال کا جواب احتساب ہے: آزاد شکایتی ادارے، عدالتی نگرانی اور شفاف تادیبی کارروائیاں۔
اس کا جواب یہ نہیں کہ ہر ضلعی پولیس سربراہ کے کیریئر پر حکمران جماعت کا کنٹرول قائم کر دیا جائے۔
حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ آج جو اختیارات ایک جماعت کے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں، کل اسی جماعت کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جو پولیس فورس وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھنے والے فرد کی خدمت کرے گی، وہ شہری، متاثرہ شخص یا قانون کی حکمرانی کی مؤثر خدمت نہیں کر سکے گی۔
اس کے عملی اثرات بھی ہیں۔
خیبر پختونخوا کو سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی کے لیے مضبوط کمان، تسلسل اور نظم و ضبط ضروری ہے۔
ایسا افسر جسے سیاسی خواہش پر کسی بھی وقت تبدیل کیا جاسکتا ہو، نہ مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کر سکے گا، نہ کسی ضلع میں طویل المدتی سرمایہ کاری کرسکے گا اور نہ ہی مقامی طاقتور عناصر کا مؤثر مقابلہ کر سکے گا۔
صوبے کی فرنٹ لائن فورس ایسے کمانڈ اسٹرکچر کی متحمل نہیں ہوسکتی جسے سیکریٹریٹ سے چلایا جائے۔
کیا کیا جانا چاہیے؟
صوبائی اسمبلی کو اس قانون کو موجودہ شکل میں منظور نہیں کرنا چاہیے۔
پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے مقررہ مدت کے ایک واضح نظام کے تحت آئی جی کے اختیار میں رہنے چاہئیں۔
احتساب حقیقی اور ادارہ جاتی ہونا چاہیے، اور اسے سیاسی کنٹرول والے محکموں کے بجائے آزاد اداروں کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے۔
پولیس کو عدالت میں اپنی نمائندگی اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق بھی برقرار رہنا چاہیے، کیونکہ پولیس قانون کی خادم ہے۔
خیبر پختونخوا کے سامنے وہی بنیادی سوال ہے جس کا برصغیر 1861 سے سامنا کر رہا ہے:
کیا پولیس اقتدار کی خدمت کے لیے ہے یا عوام کی خدمت کے لیے؟
پشاور ہائی کورٹ اس سوال کا جواب پہلے ہی دے چکی ہے۔
اب صوبائی اسمبلی کے پاس موقع ہے کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق کرے، یا صوبے کو ایک بار پھر نوآبادیاتی دور کی پولیسنگ کی طرف لے جائے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ اے آر وائی نیوز اور اس کی مینجمنٹ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں
