لاہور: پاکستان کے معروف ای گیمر ارسلان صدیقی، جو ای گیمنگ کی دنیا میں ارسلان ایش کے نام سے شہرت رکھتے ہیں، نے ٹیکن میں عالمی سطح پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوالیا۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 8 مرتبہ ایوو ٹائٹل جیتنے والے ارسلان ایش کا کہنا ہے کہ عالمی چیمپئن بننے تک ان کا سفر آسان نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، جدوجہد اور محدود وسائل کے باوجود مسلسل پریکٹس شامل ہے۔
اپنی جدوجہد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارسلان ایش نے بتایا کہ وہ ارسلان ایش جسے آج لوگ جانتے ہیں، اس نے بہت جدوجہد کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے اور اس وقت گیمنگ کے لیے زیادہ سپورٹ بھی حاصل نہیں تھی، اس دور میں پاکستان میں ای گیمنگ کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا جاتا تھا اور عام طور پر اسے مستقبل کے پیشے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔
آج کے دور میں 8، 10 یا 12 سال کے بچے گیمنگ کرتے ہیں تو ان کے والدین بھی جانتے ہیں کہ گیمنگ کے ذریعے آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں، لیکن ہمارے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ اس وقت موبائل فون پر گیمنگ بھی عام نہیں تھی، بلکہ میرے پاس تو موبائل فون تک نہیں تھا۔
اس وقت آرکیڈ سینٹرز ہوا کرتے تھے جہاں دو یا تین روپے کا ٹوکن لے کر گیم کھیلی جاتی تھی۔ میں بھی اسکول سے واپسی کے بعد جیب خرچ کیلیے ملنے والے دو، تین روپے بچاتا اور ان ہی پیسوں سے ٹوکن خرید کر گیم کھیلا کرتا تھا۔ میں بھی ان بچوں میں سے ایک تھا جو آرکیڈ سینٹر جاکر گیم کھیلتے تھے اسی طرح میرے گیمنگ کے سفر کا آغاز ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے بہت مشکل حالات اور محدود وسائل میں یہ سفر طے کیا، لیکن آج اللہ کا شکر ہے کہ میں جس مقام پر ہوں، وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں ارسلان ایش نے بتایا کہ سچ کہوں تو مجھے خود بھی یاد نہیں کہ میں نے کتنی پاکستانی اور بین الاقوامی چیمپئن شپ جیتی ہیں۔
میں نے پاکستان میں بھی بہت سے مقابلے جیتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شاید یہ تعداد 50 سے زائد یا اس سے بھی زیادہ ہو، مجھے درست تعداد معلوم نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کامیابیوں میں ایوو سمیت کئی بڑے ایونٹس شامل ہیں، ایوو ایک بڑا گیمنگ ایونٹ ہوا کرتا ہے اور ٹیکن میں اس وقت تک میں واحد کھلاڑی ہوں جس نے سب سے زیادہ ایوو ٹائٹلز جیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کومبو بریکرز اور دیگر کئی مقابلے بھی میں جیت چکا ہوں۔
ارسلان ایش نے کہا کہ میری بڑی کامیابیوں میں ٹیکن ورلڈ ٹور فائنلز کی فتح شامل ہے، جو میں نے 2023میں جیتی تھی، اس کے علاوہ ایوو میں بھی میں نے متعدد ٹائٹلز حاصل کیے ہیں۔
مستقبل کے پلان کے حوالے سے ارسلان نے بتایا کہ اتنی کامیابیوں کے بعد بھی ابھی بڑا ہدف باقی ہے۔ اب ایک نیا بڑا ٹورنامنٹ ای ڈبلیو سی ہے، جسے شروع ہوئے تقریباً 3 سال ہوئے ہیں۔ یہ سعودی عرب میں منعقد ہوتا ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں انعامی رقم بھی بہت زیادہ ہے اگر میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہوں تو مجھے 3 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ میرا مقصد ہے کہ اس مرتبہ میں پہلی پوزیشن حاصل کروں اور اس کے لیے بھرپور محنت کررہا ہوں۔
میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ اس مرتبہ بھی اپنی کامیابی پاکستان کے نام کروں، میری سب سے درخواست ہے کہ جو لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میرے کھیل کو پسند کرتے ہیں، وہ میرے لیے دعا اور حوصلہ افزائی کریں۔
