سوشل میڈیا پر لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔
جس میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ یونیورسٹی نے زندہ شخصیات پر پی ایچ ڈی (Ph.D) ریسرچ پر اس وقت تک پابندی لگا دی ہے جب تک کہ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی سول ایوارڈ نہ ملا ہو۔
متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ نوٹیفکیشن واقعی اصلی ہے یا نہیں ، یہ دعویٰ درست ہے۔
دعویٰ
11 جون کو، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن شیئر کیا۔
جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی حیات شخصیت پر اس وقت تک پی ایچ ڈی ریسرچ نہیں کی جا سکتی، جب تک کہ اس شخصیت کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے کسی سول ایوارڈ سے نہ نوازا گیا ہو۔
8 جون کی تاریخ والے اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا، “پنجاب یونیورسٹی کا کوئی بھی اسکالر کسی نامور حیات شخصیت پر پی ایچ ڈی ریسرچ صرف اسی صورت میں کر سکے گا جب اس شخصیت کو حکومت کی طرف سے سول ایوارڈ سے نوازا گیا ہو۔”
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو10 ہزار 500 سے زائد دفعہ دیکھا، 276 بار لائک اور 58 مرتبہ ری شیئر کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
یہ نوٹیفکیشن مستند ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے اختیار کی گئی نئی پالیسی کے تحت، پی ایچ ڈی اسکالرز حیات شخصیات پر صرف اسی صورت میں ریسرچ کر سکتے ہیں جب ان افراد کو سول ایوارڈ ملا ہو۔
ایسی ریسرچ کے لیے یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (ASRB) سے قبل از وقت منظوری حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔
یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر خرم شہزاد نے جیو فیکٹ چیک کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں اس نوٹیفکیشن کے مستند ہونے کی تصدیق کی ہے۔
خرم شہزاد نے بتایا، “یہ نوٹیفیکیشن درست ہے، آپ زندہ لوگوں پر بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی معیار ہونا چاہیے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ زندہ پرسنیلٹی کے بارے میں ہیں یعنی آج کی پرسنیلٹی (personality) کے بارے میں ہے جو زندہ ہے، یہ اس پرسنیلٹی کے بارے میں نہیں ہے جو فوت ہو چکے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی اسکالر کسی ایسی شخصیت پر بھی ریسرچ کرنا چاہے جسے سول ایوارڈ ملا ہو، تب بھی یونیورسٹی کے متعلقہ ادارے سے منظوری لینا لازمی ہو گا۔
خرم شہزاد کے مطابق پہلے اس طرح کی منظوریاں محکمانہ (departmental) بورڈز کی طرف سے دی جاتی تھیں تاہم، نئی نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت، اب ان درخواستوں کا جائزہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ لیتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بورڈ صرف پی ایچ ڈی کی سطح پر ہونے والی ریسرچ کی نگرانی کرتا ہے اور بی ایس (BS) یا ایم فل (MPhil) کے ریسرچ پراجیکٹس اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
بی ایس کی سطح پر حیات شخصیات پر ریسرچ اب بھی کی جا سکتی ہےجو کہ متعلقہ شعبے کی ضروریات سے مشروط ہو گی۔
فیصلہ: آن لائن گردش کرنے والا یہ نوٹیفکیشن بالکل مستند ہے، پنجاب یونیورسٹی نے ایک ایسی پالیسی اختیار کی ہے جس کے تحت یونیورسٹی کی منظوری سے مشروط حیات شخصیات پر پی ایچ ڈی ریسرچ کو صرف سول ایوارڈ یافتگان تک محدود کر دیا گیا ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔























Leave a Reply