سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اینٹی نارکوٹکس فورس کے اس وقت کے سربراہ سے مخاطب تھے۔ میری خوش قسمتی کے میں نے یہ مکالمہ خود سنا۔ مقدمہ غالباً کراچی بدامنی کیس کا تھا اور ذکر اس عروس البلاد شہر میں اسلحہ اور ڈرگ کی سپلائی کا تھا۔ چوہدری صاحب نے افسر سے پوچھا،’’ میں نے تو آپ کو منشیات کے کاروبارمیں ملوث افراد کی فہرست کا کہا تھا آپ نے جو لسٹ دی وہ منشیات استعمال کرنے والوں کی ہے۔
اصل لسٹ کہاں ہے۔’’ پھر انہوں نے ایک کمال جملہ کہا،’’ اس شہر میں تو اسلحہ نہیں بنتا تو یہ یہاں تک ساری چیک پوسٹس کو عبور کرتے ہوئے پہنچ کیسے جاتا ہے۔ اب بھی کراچی پورٹ پر اسلحہ سے بھرا باکس لاہور کے ایک ایڈریس کا رکھا ہوا ہے، کسی نے کچھ کیا۔‘‘ جو لوگ چوہدری صاحب کی عدالت سے واقف ہیں ان کو ان کے انداز کا بھی پتا ہوگا۔ اب مجھے نہیں پتا کہ ایسی کوئی فہرست بعد میں جمع ہوئی یا نہیں مگر آج اتنے برسوں بعد جب ایک انمول پنکی کا کیس سامنے آیا تو کچھ ویسی ہی کہانیاں میڈیا میں آنے لگیں مگر وہ سوال اپنی جگہ آج بھی موجود ہے،’ اگر وہ بڑے بڑے لوگوں اور ان کے بچوں کو کوکین یا کوئی دوسری منشیات فروخت کرتی تھی تو اس کو سپلائی کرنیوالے اور اس کاروبار کے پیچھے کون کون ہے۔ ایک بات کا یقین رکھیں وہ بری ہوجائے یا اسے سزا ہوجائے ’ منشیات ‘ کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس کے ہاتھ بھی قانون کے ہاتھ سے لمبے ہیں۔ تھوڑی تحقیق کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہماری سیاست میں’ پیسہ‘ کیسے آیا اور وہ ’دھن زدہ‘ کیسے ہوئی۔
پہلی افغان جنگ کے بعد ملک میں صرف دہشت گردی، انتہا پسندی نے ہی جڑیں نہیں پکڑیں بلکہ منشیات نے سب سے بڑے کاروبار کی جگہ لے لی جسکی ایک بڑی مارکیٹ عروس البلاد کراچی بنا۔ اس جنگ کے دوران ہی ایک امریکی جریدے نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں ان افسران کے نام بھی شامل تھے اور ان کے راتوں رات امیر بن جانے کی تفصیلات بھی جن کا تعلق منشیات کےکاروبار سے تھا۔اس زمانے میں سابقہ فاٹا کےبا اثر افراد کے نام بھی سامنے آئے اور یوں منشیات کا کاروبار ہماری سیاست میں بھی داخل ہوگیا یہاں تک کے بات اعلیٰ ایوانوں تک پہنچ گئی۔
’خیبر تا کراچی‘ اسلحہ اور منشیات کی لپیٹ میں آ گئے بات وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران پیسےکےبےدریغ استعمال کی ہو یا ہمارے طرز سیاست میںراتوں رات امیر زادہ بن جانے کی۔مجھے آج بھی یادہے میں کراچی کے ایک انگریزی رسالے ’نیوز لائن‘ کی کور اسٹوری کرنے والی ٹیم کاحصہ تھا اور میں نے سینٹرل جیل کراچی میں بند مشہور زمانہ ’ بلیک پرنس‘ کا انٹرویو اور اس پر اسٹوری کی تھی جس کا ٹائٹل تھا’نارکو پاور‘۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس پوری کور اسٹوری کو ساؤتھ ایشیا ایوارڈ بھی ملا تھا جس میں ہمارے اور کئی ساتھیوں کے آرٹیکل بھی شامل تھے۔
بعد میں ایسی ہی کئی کہانیاں انڈرورلڈ ڈان شعیب خان کی بھی آنی شروع ہوئیں جس کو کراچی کا کنگ بھی کہا جاتا تھا۔ کرکٹ کی میچ فکسنگ میں بھی منشیات کا عمل دخل شروع ہوا ایک بار تو ہمارے تین نامور کرکٹرز کو غالباً ویسٹ انڈیز کے دورےکے دوران منشیات کا استعمال کرتے ہوئے پکڑا بھی گیا ۔ پھر سیاست ہی کیا کرکٹ بھی، منشیات زدہ ہوگئی اور پیسے کی ایسی ریل پیل ہوئی کہ کئی کرکٹرز ارب پتی ہوگئے۔
ایک ایسا وقت بھی آیا جب ایک انگریزی اخبار کے مالک رحمت شاہ آفریدی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ان کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے کے الزام میں مقدمہ چلا اور اسے سزائے موت سنا دی گئی، بعد میں سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ کوئی نوسال جیل میں رہنے کے بعد1999میں جب وہ رہا ہوئے تومیں نے ایک نجی چینل کیلئے ان سےانٹرویو کیا جس میں انہوں نے نواز شریف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اس کو اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ڈرگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک سےجوڑنے کی کوشش کی۔
انہوں نے اس انٹرویو میں اس وقت کے اینٹی نار کوٹکس فورس کےسربراہ سمیت کئی افسران کے نام بھی لیے اور اپنا مقدمہ دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا مگر وہ فائل دوبارہ نہیں کھلی۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں مگر اس کے بعد کئی اعلیٰ حکام، سیاستدانوں پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام لگتا رہا اور مقدمات بھی قائم ہوئے وہ صحیح تھے یا غلط کچھ کہا نہیں جاسکتا مگر جب سے ’ڈرگ منی‘ ہماری قومی سیاست اور معاشرے میں آئی ہےلوگوں کے راتوں رات امیر بننے کی کہانیاں عام ہیں۔ تو یقین رکھیں انمول پنکی نے کچھ نام لے بھی لیے تو انہیں کچھ نہیں ہوگا تاہم خود پنکی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
70کی دہائی تک شاید کسی کو سہراب گوٹھ کا پتا تک نہ ہو مگر سپر ہائی وے جہاں سے شروع اور جہاں ختم ہوتی ہے کراچی سے جانے اور پہنچنے تک وہ 80کی دہائی میں اسلحہ اور ڈرگ کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی جہاں سے کراچی میں اس کی سپلائی شروع ہوئی اور پھر شہر خون آلود ہوگیا۔ 1986میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید غوث علی شاہ نےایک بڑے آپریشن کا حکم دیا اور پھر اچانک اسے روک دیا گیا ۔ بعد میں میرے ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ’ اوپر سے حکم ملا کہ اسے روک دیں خون خرابہ ہوجائیگا‘‘۔
اب سیاست میں اور بڑے کھیل میں انڈر ورلڈ بھی داخل ہوچکی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑے بڑے لوگوں کے نام سامنےآنے لگے۔ بات انسانوں کی غیر قانونی طور پر لاکھوں لوگوں کو باہر بھیجنےسے شروع ہوئی۔ ایک ایسی رپورٹ میں اس وقت کےکچھFIAکے افسران کے نام آئے، کچھ سیاست میں آئے اور بڑے سیاسی اور حکومتی عہدوں پر بھی رہے۔لہٰذا کہانی ایان علی کی ہو جس پر نہ جانےکیا کیا الزام لگے پھر اچانک وہ باعزت ’رخصت‘ ہوئی اور اب باہر ہے۔ میڈیا کیلئے اب انمول پنکی ہے۔ وقت بتائے گا کہ وہ کتنی’انمول‘ ہے مگر منشیات کا کاروبار چلتا رہے گا، اطمینان رکھیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply