تنہا رہنے سے بچنے کے لیے ایک سپر مارکیٹ میں مقیم بزرگ فرد نے اپنا فلیٹ ایک ایسی خاتون کو دے دیا جس سے وہ دکان میں ملا تھا۔
جی ہاں واقعی چین سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ چیانگ مینگ نے ایسا اپنے بیٹے کی مخالفت کے باوجود کیا۔
وہ شنگھائی کی ایک سپر مارکیٹ میں لگ بھگ ایک دہائی سے مقیم ہیں۔
وہ چٹائی پر سوتے ہیں جبکہ دن میں سپر مارکیٹ میں کھانے کے لیے مختص حصے میں آرام کرتے ہیں جبکہ جیب میں 50 ہزار یوآن اور ایک ڈی وی ریکارڈر لے کر گھومتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ بھکاری نہیں بس تنہا رہنے سے گھبراتے ہیں۔
چیانگ منگ کے چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور دیکھنے میں صاف ستھرے نظر نہیں آتے۔
ان کے مطابق وہ تنہا فلیٹ میں رہتے ہوئے مرنے سے ڈرتے ہیں، جہاں وہ سال 2000 سے بیوی سے علیحدگی کے بعد مقیم تھے۔
2021 میں ان کی ملاقات ایک خاتون ہوانگ سے سپر مارکیٹ میں ہوئی۔
وہ خاتون اس سپر مارکیٹ میں میں چیانگ کا خیال رکھنے کے لیے آئی تھیں۔
ہوانگ نے چیانگ منگ کے بالوں کی صفائی کی، پھر اکثر ملنا شروع کیا، ان کے لیے کھانا لانے کے علاوہ صفائی بھی کرتیں۔
چیانگ منگ کے پرانے پڑوسی جب ان سے ملتے تو وہ بھی کہتے کہ ہوانگ کی دیکھ بھال کے باعث وہ زیادہ صحت مند اور خوش نظر آرہے ہیں۔
چیانگ منگ نے ہوانگ کو بیٹی قر دیا اور اپنی وصیت میں فلیٹ خاتون کے نام کر دیا، کیونکہ ہوانگ نے مرتے دم تک ان کا خیال رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔
چیانگ منگ کا ایک بیٹا بھی ہے مگر وہ والدین کی علیحدگی کے بعد سے اپنے والد سے نہیں ملا۔
ہوانگ کا کہنا تھا کہ وہ فلیٹ ملنے پر خوش ہیں اور چیانگ منگ کا خیال رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
مگر چیانگ منگ کا بیٹا اپنے والد کو عدالت لے گیا اور مقدمہ جیت کر فلیٹ کا قانونی مالک بن گیا۔
اس کے بعد چیانگ منگ فلیٹ سے محروم ہوگئے جو انہیں اپنی والدہ سے ترکے میں ملا تھا، مگر ہوانگ نے ان کا خیال رکھنا نہیں چھوڑا اور وہ ایک کرائے کے فلیٹ میں مقیم ہیں۔


























Leave a Reply