اقلیت مخالف سرگرمیوں کےالزامات پر دہشتگرد تنظیم آرایس ایس شدید عالمی دباؤمیں آگئی۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق آر ایس ایس نے ہندوتوا اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے نظریے کو فروغ دیا، آر ایس ایس کئی بار اپنے شدت پسند رجحانات کے باعث پابندیوں کی زد میں رہی ہے،بی جے پی کے دور حکومت میں آر ایس ایس کی نفرت انگیز سیاست کو عروج ملا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رام مندرکی تعمیراورکشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ آرایس ایس ایجنڈےکی بڑی کامیابیاں قرارپائیں۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی آر ایس ایس پر پابندی کی سفارش کی ہے، امریکی کمیشن نے آر ایس ایس کو اقلیتوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت سے جوڑ دیا، سفارشات میں آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکامیں داخلے پر پابندی کی تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آرایس ایس نے پابندیوں سے بچنے کے لیے عالمی لابنگ مہم شروع کردی، دباؤ بڑھنے کے بعد آر ایس ایس کے رہنما امریکا،برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہوگئے،دلی میں آرایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابالے نے بریفنگ دی۔
آر ایس ایس کا یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ کا اعلان: خبر ایجسنی
خبر ایجنسی کے مطابق آر ایس ایس رہنما مودی حکومت پر سے مذہبی شدت پسندی کا لیبل ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں،1925 سے قائم آر ایس ایس مہاتما گاندھی کے قتل میں بھی ملوث رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے شدت پسند نظریات کے باعث عالمی دباؤ میں ہے، مودی کی آر ایس ایس سے وابستگی نے بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کا خاتمہ کر دیا، اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد انگیز کارروائیاں یورپ بھارت تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔


























Leave a Reply