وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ نے جیو فیکٹ چیک کو تصدیق کی ہے کہ (والد کی برطرفی کا) نوٹیفکیشن جعلی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ایک طالبہ کے درمیان3 فروری کو ہونے والے مکالمے کے بعد، انٹرنیٹ پر ایک نوٹیفکیشن گردش کرنے لگا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ صوبائی حکومت نے طالبہ کے والد کو ان کی سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے اور مذکورہ نوٹیفکیشن من گھڑت ہے۔
دعویٰ
مذکورہ نوٹیفکیشن، جس پر 4 فروری کی تاریخ درج ہے، مبینہ طور پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری کے دفتر سے جاری کیاگیا ۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے کلرک، بشیر خان کو بغیر بتائے غیر حاضر رہنے اور محکمانہ انکوائری کا جواب نہ دینے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی تمام مراعات ختم کر دی گئی ہیں۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے ایک صارف نے اس مبینہ نوٹیفکیشن کو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا: ”سوال کیوں پوچھا؟؟؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ دور حکومت میں اس کی کارکردگی پر سوال کرنے والی پختون بیٹی فاطمہ کے والد کو خیبرپختونخوا حکومت نے نوکری سے معطل کر دیا،خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی پر سوال کرنا جرم ٹھہرا۔“
اس دستاویز پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری، شہاب علی شاہ کا نام اور مبینہ دستخط موجود ہیں۔
اس آرٹیکل کے شائع کئے جانے کے وقت تک پوسٹ کو 35 ہزار سے زائد بار دیکھا، 1 ہزار 500 مرتبہ لائک اور1 ہزار دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
یہی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا کے دیگر صارفین کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا، جسے درج ذیل لنکس کو یہاں، یہاں اور یہاں پر دیکھا جا سکتا ہے:
حقیقت
طالبہ اور دو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کبھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔
فاطمہ خان، جن کی ویڈیو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے صوبے میں ان کی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے پر وائرل ہوئی تھی، انہوں نےجیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں ہے اور وہ کبھی بھی محکمہ تعلیم میں ملازم نہیں رہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ان کے والد، ڈاکٹر اخوان خان، خیبر پختونخوا کے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، جن کا نام اس مبینہ نوٹیفکیشن پر درج ہے، انہوں
نے بھی جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ یہ دستاویز جعلی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کی ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نےجیو فیکٹ چیک سے بات کرتے ہوئے اس خط کو جعلی قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کی کاپی ان کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔
فیصلہ: وہ نوٹیفکیشن جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت پر سوال اٹھانے پر ایک طالبہ کے والد کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، من گھڑت ہے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply