ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمُز میں بحری مشقوں کا اعلان کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب بحری فورس کی مشقیں آبنائے ہرمُز میں یکم اور 2 فروری کو ہوں گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات پائے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل برآمدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جو سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتی ہے۔
اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑے بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
جس پر ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا تیز اور جامع جواب دیا جائے گا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی دہرایا کہ ایران مذاکرات کے لیے صرف اسی صورت تیار ہے جب شرائط منصفانہ، متوازن اور دباؤ سے پاک ہوں۔
دوسری جانب سے جمعرات کو یورپی وزرائے خارجہ نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔


























Leave a Reply