دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے حیران کن بلکہ کسی حد تک ناقابل یقین پیشگوئی کی ہے۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے پیشگوئی کی کہ 2026 کے آخر تک اے آئی ٹیکنالوجی انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔
فورم سے خطاب کے دوران ایلون مسک نے اے آئی میں ہونے والی تیز رفتار پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ طویل المعیاد مستقبل غیریقینی ہے مگر موجودہ پیشرفت سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں جیسی ذہانت کی حد کو بہت جلد عبور کرلے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5 سال کے اندر اے آئی ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی اور ایسا 2030 یا 2031 تک ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نہیں جانتا کہ 10 برسوں میں کیا ہوگا، مگر جس رفتار سے اے آئی ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، میرے خیال میں رواں برس کے آخر تک اے آئی کسی بھی انسان سے زیادہ اسمارٹ ہو جائے گی’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ممکنہ طور پر 2030 یا 2031 یعنی اب سے 5 سال کے اندر اے آئی تمام انسانوں سے زیادہ اسمارٹ ہو جائے گی’۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی اور روبوٹیکس سے معیشت میں بے نظیر توسیع ہوگی اور انسانوں جیسے روبوٹ بہت جلد روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو جائیں گے۔
ایلون مسک کے مطابق اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم اگلے برس کے آخر میں عام افراد کو انسان نما روبوٹس فروخت کریں گے اور متعدد روبوٹس اے آئی کی مدد سے انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا کام کریں گے۔
درحقیقت انہوں نے پیشگوئی کی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسانوں سے زیادہ روبوٹس دنیا میں موجود ہوں گے۔
ان کے بقول روبوٹس سے انسانی ضروریات کی طلب میں کمی آئے گی اور روبوٹس کو اپنانا دنیا میں موجود ہر فرد کے لیے ناگزیر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اسٹار لنک کا مشن یہ ہے کہ انسانیت کا مستقبل بہتر بنایا جائے۔


























Leave a Reply