پاکستان کےسابق اور موجودہ کرکٹرز کےساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی، ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔
کھلاڑیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔
کھلاڑیوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا ہے، کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے کہا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہوا تو بتادیں گے۔
کھلاڑیوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو بتایا کہ مارچ تک پیمنٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، کمپنی کا مالک دبئی میں ہے اور ہم سے رابطے میں ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ ذرائع کے مطابق کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی، کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سےبھی مسئلہ حل کرانےکے لیے رابطہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق کرکٹرز نےسابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی،کرکٹرز نےاپنےکروڑوں روپےغیر معمولی منافع کےچکرمیں مبینہ طور پردے دیے۔


























Leave a Reply