کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگنے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا، آگ کی شدت سے عمارت کے کئی حصے گرگئے، وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سانحہ 6 افراد کی جان لےگیا،22 زخمی ہوئے ہیں جب کہ تقریباً60 افراد لاپتہ ہیں۔
ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہےکہ آگ لگنے کے باعث ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 22افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ، ان کی حالت بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق20فائر ٹینڈرز اور 4اسنارکلز کی مدد سے آگ پرقابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، پانی اور فوم کا استعمال کیا جارہا ہے۔پاک بحریہ کے فائرٹینڈرز بھی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق عمارت انتہائی مخدوش ہوگئی ہے اب اس کے اندر جاکر ریسکیو کا کام خطرناک ہے، آگ پر مکمل قابو پانےکے بعد ہی سرچ آپریشن کیاجائےگا، ڈیڑھ سو سے زائد فائر فائٹر کام کر رہے ہيں۔
عمارت میں پھنسے لوگوں سے رابطہ ختم ہوگیا ہے۔ عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں درست تعداد کا اندازہ نہیں، 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق58 افراد لاپتہ ہیں۔
مارکیٹ حکام کا کہنا ہےکہ تین منزلہ عمارت میں ایک ہزار سے زائد دکانیں ہیں۔ گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل گئے ہیں۔
چیف فائرآفیسر کا کہنا ہےکہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ہے ، دھماکاگیس لیکج کے باعث ہوا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کم زور ہوگئے ہیں، متعدد دراڑیں پڑ گئی ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ ہے۔ آتش گیر سامان کے باعث آگ کی شدت میں اضافہ ہوا، عمارت میں کتنے لوگ ہیں یہ تعداد بتانا مشکل ہے۔
وزیراعلیٰ، میئر سمیت کسی نے رابطہ نہیں کیا، صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن
اس سے قبل صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ عمارت سے تمام کسٹمرنکل چکے ، وزیراعلیٰ سندھ، میئرکراچی کسی نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ صرف گورنر سندھ آئے اور کوئی نہیں آیا، عمارت میں 1200 دکانیں ہیں، اربوں روپے کا نقصان ہوا، آگ مصنوعی پھولوں کی دکان پر لگی تھی جو پھیلتی چلی گئی۔
گل پلازہ سے نکلنے والے ایک شخص نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر موجود مسجد کا دروازہ توڑ کر باہر نکلے۔
ملازم نے بتایا کہ کہ ہردکان میں کروڑوں کا مال تھا، بہت نقصان ہوا ہے ۔ ایک اور متاثرہ شخص نے کہاکہ آکسیجن کی کمی کےباعث سانس لینادشوار تھا، متعددلوگ بے ہوش ہوئے،کچھ لوگ برابر والی عمارت پر چھلانگ لگاکر نیچے اترے۔
ادھر شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کردی گئی۔
متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائےگا؛ وزیراعلیٰ سندھ
جائے وقوعہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سےگفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہے جو لاپتا ہیں وہ جلد مل جائیں،میں کراچی سے باہر تھا، کمشنر، میئر ، ڈپٹی میئر سے رابطے میں تھا، بہت افسوسناک واقعہ ہے،کوشش ہے58 اور 60 سےکےقریب لاپتا افراد مل جائیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھ سے ابھی تک رابطہ نہیں کیا،کوشش ہوگی شفاف طریقے سے لوگوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے، متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی اسٹڈی کےکئی منزلہ عمارت کی اجازت دی گئی،ک جب کچھ کیا جائے تو بلڈرز کہتے ہیں نا انصافی ہو رہی ہے۔


























Leave a Reply