خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اس نے صوبے میں 14 نئی سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی ہیں۔
پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت 34 سرکاری یونیورسٹیاں موجود ہیں، جن میں سے 14 پی ٹی آئی حکومت کے دور میں قائم کی گئی ہیں۔
مذکورہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے۔
8 جنوری کو خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر2 منٹ سے زیادہ دورانیے کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کی، جس کا کیپشن تھا: ”عمران خان کے وژن کے تحت خیبر پختونخوا میں 2013 سے اب تک 14 نئی پبلک یونیورسٹیز قائم کی گئیں۔“
پوسٹ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب سرکاری یونیورسٹیوں کی کل تعداد 34 ہو چکی ہے، جن میں سے 14 پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھیں۔
پوسٹ میں درج ذیل یونیورسٹیوں کی فہرست دی گئی تھی:
1: ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
2: ویمن یونیورسٹی، صوابی
3: یونیورسٹی آف چترال
4: یونیورسٹی آف بونیر
5: یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (شہداء اے پی ایس) نوشہرہ
6: پاک آسٹریا فخاشولے انسٹی ٹیوٹ آف الائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، ہری پور
7: ویمن یونیورسٹی، مردان
8: یونیورسٹی آف شانگلہ
9: زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان
10: زرعی یونیورسٹی سوات
11: یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان
12: یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز، سوات
13: یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائڈ سائنسز، سوات
اس پوسٹ کو 2 ہزار 219 سے زیادہ بار دیکھا ، 420 بار ری شیئر اور 1 ہزارسے زائد بار لائک کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے پوسٹ کے کمنٹ سیکشن میں اس دعوے کی درستگی پر سوالات اٹھائے۔
اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور خیبر پختونخوا میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، دونوں کے سرکاری ریکارڈز 2013 کے بعد صوبے میں 14 سے زائد سرکاری یونیورسٹیوں کے قیام کی تصدیق کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط کے ذمہ دار ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا وسیم خالق داد نے جیو فیکٹ چیک کو ای میل کے ذریعے تصدیق کی کہ ایچ ای سی کے ریکارڈز اس وقت خیبر پختونخوا میں 47 یونیورسٹیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں 36 سرکاری اور 11 نجی شعبے کی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2013 سے اب تک صوبے میں 14 نہیں بلکہ 16 سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
ایچ ای سی (HEC) کے ڈیٹا میں وہ تمام یونیورسٹیاں شامل ہیں جن کی فہرست خیبر پختونخوا حکومت کی سوشل میڈیا پوسٹ میں دی گئی تھی اور ساتھ ہی اس میں فاٹا یونیورسٹی کوہاٹ اور یونیورسٹی آف لکی مروت بھی شامل ہیں۔ تاہم، کالام بی بی انٹرنیشنل ویمن انسٹی ٹیوٹ، بنوں وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے جون 2023 میں قائم کی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ اگرچہ 2013 کے بعد صوبے میں 16 یونیورسٹیاں قائم کی گئی تھیں، لیکن اس دوران کچھ اداروں کو سب کیمپسز سے اپ گریڈ کر کے مکمل آزاد یونیورسٹیوں کا درجہ دیا گیا تھا۔
فیصلہ: یہ دعویٰ کہ 2013 کے بعد خیبر پختونخوا میں 14 نئی سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی گئیں یا انہیں اپ گریڈ کیا گیا، درست ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply