مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پیش نظر اس سال امریکا،کینیڈا اور میکسیکو میں منعقدہ فیفا فٹ بال ورلڈکپ 2026ء میں ایران کی شرکت پر سوالیہ نشان تاحال برقرار تھااور ہے۔بالخصوص امریکا میں داخلے اور ایرانی حکام سے متعلق پابندیوں کے تناظر میں یہ خدشات سامنے آئے کہ شاید ایران فیفا فٹ بال ورلڈکپ میں شرکت نا کرے۔
ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ ایران ورلڈکپ میں اپنے میچ امریکا کے بجائے، کینیڈا میں کھیلے۔ تاہم فیفا کے صدر جیانی انفیٹینو نے واضع طور پر کہا کہ ایسا نہیں ممکن اور ورلڈکپ شیڈول کے مطابق ہوگا، جب کہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے واضع الفاظ میں کہا کہ ہمیں ورلڈکپ سے کوئی باہر نہیں کرسکتا، ورلڈکپ فیفا کا ہے، امریکا کا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران فٹ بال ٹیم ان دنوں باقاعدہ طور پر کشیدہ صورتحال کے باوجود بھرپور انداز میں ٹریننگ کر رہی ہے، خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تفصیلات ضرور منظر عام پر آئی ہیں ، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ایران فٹ بال ٹیم کس مقام پر ٹریننگ کر رہی ہے۔
یاد رہے ، ایران نے مارچ 2025ء میں ازبکستان کے مقابلے پر 2-2 گول سے ڈرا میچ کھیلا تھااور ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے تیسرے راؤنڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے مسلسل چوتھی بار ورلڈکپ میں شرکت کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
ایران نے پہلی مرتبہ 1978ء میں فیفا ورلڈکپ کھیلا تھا جس کے بعد 1998 ء اور 2006ءمیں بھی ایران نے اس بین الاقوامی مقابلے میں براہ راست شرکت کی۔2014ء2018ء2022ء کے بعد یہ مسلسل چوتھا ورلڈ کپ ہے، جہاں ایران شرکت کا اہل قرار پایا ہے۔
ایران فٹ بال کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے تو 25 اگست 1941ء کو پہلا بین الاقوامی میچ افغانستان کے خلاف کھیلا۔کابل میں کھیلا گیا مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔24 نومبر 2000ء کو ایران نے گوام کو 0-19 سے شکست دی جو اس کی سب سے بڑی فتح ہے۔ 28 مئی 1950ء کو استنبول میں میزبان ترکیے کے ہاتھوں 1-6 سے شکست ایران کی اب تک کی سب سے بڑی شکست ہے۔فیفا کی عالمی درجہ بندی میں ایران اس وقت 21 ویں نمبر پر براجمان ہے۔ جب کہ اس سلسلے میں دیکھا جائے، تو اس کی بہترین درجہ بندی اگست 2005ء میں منظر عام پر آئی، جو عالمی نمبر 15 تھی۔
ایران فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ 62 سالہ امیر قلعہ نوئی ہیں۔جنھوں نے ایران کے لیے 22 میچ کھیلے تھے۔ ایران فٹ بال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں گروپ “ جی” میں شامل ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا روانگی سے قبل 16 مئی کو ایران فٹ بال ٹیم ترکیے پہنچے گی اور دو سے تین ہفتے تربیت کیساتھ ممکنہ طور پر تین میچ بھی کھیل سکتی ہے۔ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا،کینیڈا اور میکسیکو میں منعقدہ عالمی مقابلے میں ایران 15 جون کو نیوزی لینڈ اور 21 جون کو بیلجیئم کے مقابلے پر میدان میں اترے گی۔ایران کی ٹیم اپنے دونوں میچ لاس اینجلس میں کھیلے گی۔ جب کہ 26 جون کو مصر کے خلاف سیاٹل میں ایکشن میں ہوگی۔
یہ 1994ء کے بعد دوسرا موقع ہوگا، جب امریکا فیفا ورلڈکپ کا میزبان ہوگا، ایران 32 سال قبل امریکا میں کھیلےگئے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرسکا تھا، البتہ 1998ء فرانس ورلڈکپ میں ایران نے امریکا کو شکست دے کر تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈکپ میں پہلی فتح حاصل کی تھی۔
21 جون 1998ء کو اسٹیڈ ڈی فرانس،اسٹیڈیم لیون میں ایران اور امریکا کی فٹ بال ٹیمیں اس وقت مد مقابل آئیں، جب دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی نقطہ عروج پر تھی۔
اگرچہ اس مقابلے سے قبل ہی دونوں ٹیمیں ورلڈکپ سے باہر ہوچکی تھیں ۔ تاہم ایران نے امریکا کو 1-2 سے شکست دے کر مشہور کامیابی کو گلے لگایا تھا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply