ڈپریشن اور انزائٹی ایسے امراض ہیں جن سے موجودہ عہد میں ہر عمر کے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈپریشن یا انزائٹی کے شکار افراد کو دماغی اور جسمانی دونوں طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ان عام ترین دماغی امراض سے بچنا زیادہ مشکل نہیں، بلکہ ایسا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایروبک ورزشوں کو معمول بنانا ڈپریشن اور انزائٹی کی علامات سے نجات کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔
ایروبک ورزشیں تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنے، تیراکی، سیڑھیاں چڑھنے اور سائیکل چلانے جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
ان ورزشوں سے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانس پھول جاتی ہے، جس سے دل اور نظام تنفس سے جڑی صحت بہتر ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے دوران متعدد تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان تحقیقی رپورٹس میں ورزش، پلیسبو یا کچھ نہ کرنے سے ڈپریشن اور انزائٹی کی علامات پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کی گیا کہ ویسے تو ہر قسم کی جسمانی سرگرمیاں ڈپریشن کی شدت میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتی ہیں مگر ایروبک ورزشیں ڈپریشن کے ساتھ ساتھ انزائٹی سے نجات دلانے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہیں۔
ڈُریشن اور انزائٹی دنیا بھر میں ہر 4 میں سے ایک فرد کو متاثر کرتے ہیں اور نوجوانوں سمیت خواتین میں ان کے کیسز کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر طرح کی ورزشوں سے ڈپریشن اور انزائٹی کی علامات کی شدت میں کمی آتی ہے۔
خاص طور پر 18 سے 30 سال کی عمر کے افراد کو جسمانی سرگرمیوں سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
اس سے قبل دسمبر 2023 میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دہی اور خمیر والی غذاؤں کے استعمال سے ذہنی امراض سے تحفظ ملتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دہی میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا جسم کو تناؤ پر قابو پانے میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے ڈپریشن اور انزائٹی جیسے ذہنی امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
محققین کے مطابق تحقیق سے معدے میں موجود بیکٹیریا اور ڈپریشن یا انزائٹی جیسے امراض کے خلاف مدافعتی نظام کے تحفظ کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے لیے مفید غذا کے استعمال سے ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مگر دہی میں موجود بیکٹریا Lactobacillus اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ وہ تناؤ، ڈپریشن اور انزائٹی کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Brain Behavior and Immunity میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply