سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد ایک مسجد کے اندر ایک شخص پر تشدد کر رہے ہیں۔ متعدد پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت ‘پاکستان تحریکِ انصاف’ (PTI) کا عہدیدار ہے، جس نے مبینہ طور پر لاہور میں ایک امامِ مسجد پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ انہوں نے قید میں موجود سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے دعا نہیں کی تھی۔
یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔ یہ ویڈیو پاکستان کی نہیں ہے۔
دعویٰ
2 مئی کو، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے ایک اکاؤنٹ سے مسجد کے اندر لڑائی کا ایک مختصر کلپ شیئر کیا گیا۔ کیپشن میں دعویٰ کیا گیا کہ: ”استغفراللہ، عمران خان کے پیچھے اب یہ لوگ مسجد میں بھی لڑائی جھگڑے کر رہے ہیں اور مسجد کے امام پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں، یہ ہے وہ شعور جو عمران خان نے قومِ یوتھ کو دیا ہے۔“
27 سیکنڈ کی اس ویڈیو پر لکھے گئے ٹیکسٹ میں مزید یہ الزام لگایا گیا ہے کہ لاہور کی ایک مسجد میں پی ٹی آئی کے مقامی عہدیدار نے امامِ مسجد پر اس لیے تشدد کیا کیونکہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کی دعا کروانے سے انکار کر دیا تھا۔
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو51 ہزار بار دیکھا، 1 ہزار 200 مرتبہ لائک اور640 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے انسٹاگرام، فیس بک اور تھریڈز پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
حقیقت میں یہ ویڈیو پاکستان کی نہیں بلکہ بھارت کی ہے، جس میں ایک مسجد کے اندر مٹھائی کی تقسیم کے دوران ہونے والا پرتشدد جھگڑا دیکھا جا سکتا ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے ویڈیو کے کی فریمز (Key frames) کا ریورس امیج سرچ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو سب سے پہلے 24 فروری کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں واقعے کی نشاندہی بھارت کی ریاست اتر پردیش کے طور پر کی گئی تھی۔
اس کی مزید تصدیق بھارتی اشاعتی ادارے ‘دی پونے ٹائمز مرر’ سے بھی ہوئی، جس نے رپورٹ کیا کہ یہ جھگڑا ختمِ قرآن کے بعد “لڈو” (مٹھائی) کی تقسیم کے دوران شروع ہوا
تھا۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب دو گروپوں کے درمیان باقاعدہ ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔
زی نیوز (Zee News) نے بھی 25 فروری کو اس واقعے کی رپورٹ دی تھی، جس میں اسی طرح کے حالات و واقعات بیان کیے گئے تھے۔ اس رپورٹ کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے:
فیصلہ: وائرل ہونے والی یہ ویڈیو بھارت کی ہے، جسے غلط رنگ دے کر پاکستان میں پی ٹی آئی سے وابستہ ایک واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply