اسلام آباد (30 جولائی 2026): وفاقی آئینی عدالت نے پنشن اور مراعات کو ریٹائرڈ ملازمین کا بنیادی حق قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس ارشد حسین نے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور مراعات سے متعلق کیس کا 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پنشن اور مراعات ریٹائرڈ ملازمین کا جائز بنیادی قانونی حق ہے۔
تحریری عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پنشن اور مراعات مجاز عدالت کے حکم کے بغیر نہیں روکے جا سکتی ہیں، ان کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر قانون کی خلاف ورزی ہے، اعلیٰ عدلیہ تاخیر کے خلاف متعدد فیصلے دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کیلیے ایک اور خوشخبری، کنوینس الاؤنس میں بڑا اضافہ
اس میں مزید کہا گیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور مراعات میں تاخیر توہین عدالت تصور ہوگی، عدالتی حکم کے خلاف بروقت اپیل یا نظرثانی دائر نہ ہو تو اسے حتمی تصور کیا جاتا ہے، تاخیر سے دائر نظرِ ثانی کو بعد ازاں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، قانونی چارہ جوئی کو بلآخر اختتام پذیر ہونا ہی ہوتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے تحریری فیصلے میں نجی بینک کو برطرف ڈرائیور کو مراعات سمیت بحال کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ 17 سال گزرنے کے بعد بھی لیبر کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ ہونا تکلیف دہ ہے۔
واضح رہے کہ لیبر کورٹ نے ڈیلی ویجز ڈرائیور محمد اکرم کو سابقہ مراعات سمیت بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔
