Preloader

حفیظ جالندھری نے شاعری ہی نہیں کی بلکہ ایک زمانہ میں جب وہ اخبار و رسائل سے وابستہ تھے تو نثر بھی لکھی۔ یہ تحریریں ان کے نام سے بھی شایع ہوئیں اور فرضی نام سے بھی ان کی اشاعت ہوئی۔ یہ تحریریں یک جا نہ کی جاسکیں اور اب دست یاب نہیں‌ ہیں۔ انھوں نے اپنی خودنوشت بھی تحریر کی جس میں‌ انھوں نے اپنے حالاتِ‌ زندگی بتاتے ہوئے فن و شخصیت کے کئی پہلوؤں کو بھی ہمارے سامنے رکھا ہے۔

قومی ترانے کے خالق اور کئی خوب صورت غزلوں کے شاعر حفیظ جالندھری کا ترنم بہت مشہور تھا اور وہ مشاعروں میں اپنے کلام کو ترنم سے سنا کر بہت داد وصول کرتے تھے۔ حفیظ صاحب نے اپنی خودنوشت میں‌ ایک جگہ بتایا ہے کہ پہلی مرتبہ انھیں کس طرح‌ مجبوراً ترنم کا سہارا لینا پڑا تھا۔ ملاحظہ کیجیے:

مجھے اربابِ علم کا وہ مشاعرہ کبھی نہ بھولے گا جس میں پہلی مرتبہ شامل ہوا اور پہلی مرتبہ اپنا کلام ترنم سے سنایا۔ ورنہ اب تک تحت اللفظ ہی پڑھتا تھا۔

بات یوں ہوئی کہ حاضرین مجھ سے پہلے اسٹیج پر آنے والے ہر شاعر کو سُرّ سے، سُرّ سے (یہ تشدید خاص طور پر قابلِ توجہ ہے) کی فلک شگاف مُہارنی سے بوکھلائے دے رہے تھے اور جب وہ بیچارہ تعمیلِ ارشاد کرتا تو اس کی گت بن جاتی تھی۔

اپنی باری آتی دیکھ کر میں بغلیں جھانکنے لگا۔ دل سے پوچھا کیا کیا جائے۔ دل نے کہا، میاں حوصلہ نہ ہارو، جس دھن میں شعر کہتے وقت گنگنایا کرتے ہو، اسی دھن سے سنا بھی دو….. یہ باری بھی جلد ہی آگئی اور حفیظ کی شعر خوانی کو دل کی سازش نے ترنم سے وابستہ کر دیا۔ واقعی حوصلہ کیا، ایک اور… ایک اور کی تعمیل کرنی پڑی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *