کراچی: سندھ ہائی کورٹ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں شامل کرنے پر نادرا حکام پر برہم ہوگئی اور نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں پاکستانی شہری کی فیملی ٹری میں افغان شہری کو شامل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا اور کہا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ نادرا حکام رشوت لے کر افغان شہریوں کو پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کر دیتے ہیں۔ 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں ہیں تو 20 لاکھ نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ افغان شہری پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں۔ افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کرلیا گیا ہے اب نادرا نے درخواست گزار محمد اکرم کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے ہیں۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے ؟ نادرا کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ درخواست گزار کے والد کے بائیو میٹرک کے بعد نقیب اللہ کو ان کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا ہے۔
عدالت نے نادرا کو 10 روز میں درخواست گزار کی پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔


























Leave a Reply