Preloader

گرو دت کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے جن میں بطور فلم ساز بھی انھوں نے ناکامی کا منہ دیکھا اور راہِ عشق میں مشکلات کے علاوہ ازدواجی زندگی کی تلخیاں بھی ان کا مقدر بنیں، اور ستم ظریفی یہ کہ بطور فلم ساز اور ہدایت کار زندگی میں‌ انھیں وہ پہچان اور شناخت بھی نہیں ملی، جس کے مستحق گرو دت تھے مگر بعد میں ان کا شمار انڈین سنیما کے بے مثال فلم سازوں میں ہوا۔

کہتے ہیں کہ گرو دت کو ان کی شادی شدہ زندگی اور فلم کی ناکامیوں نے ذہنی طور پر شدید متاثر کیا تھا اور اسی کشمکش میں انھوں نے دنیا سے منہ موڑ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ 10 اکتوبر 1964ء کو گرو دت اپنے بیڈ روم میں مردہ پائے گئے۔ ان کی اچانک موت کو خود کشی قرار دیا گیا۔ بمبئی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ فلمی ستاروں اور گرو دت کے دوسرے ساتھیوں نے غم اور صدمے کی حالت میں بمبئی کا رخ کیا۔ دیو آنند، پرتھوی راج، نرگس اور مینا کماری، جانی واکر اور وحیدہ رحمان ان کے چاہنے والوں میں ایسے نام تھے جو فوراً ان کے گھر پہنچے جہاں ان کا دوست اور ہم کار گہری نیند سو رہا تھا۔ گرو دت کی آخری رسومات کے موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔

گرو دت کو انڈین سنیما کا ایک باکمال ہدایت کار، فلم ساز مانا جاتا ہے جنھوں‌ نے بطور اداکار بھی خوب کام کیا۔ 9 جولائی 1925ء کو بنگلور میں پیدا ہونے والے گرو دت کا نام وسنت کمار شو شنکر پاڈوکون تھا۔ ان کا بچپن مالی مشکلات کے علاوہ خاندانی مسائل دیکھتے ہوئے گزرا۔ جب ان کا کنبہ کام کی تلاش میں مشرقی ہندوستان میں بنگال منتقل ہوا تو نوجوان گرو دت وہاں کی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے زندگی کو بہت گہری نظر سے دیکھا اور جب فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے تو انہی موضوعات کو چنا جو انسان اور زندگی کی دوڑ دھوپ اور رشتوں کی کشمکش کو سامنے لائے۔ گرو دت بیس برس کی عمر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور گیان مکرجی اور امیہ چکروتی جیسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا۔ یہ آغاز کوریو گرافر کے طور پر ہوا اور بعد میں‌ گرو دت فلم سازی اور ہدایت کاری کی طرف آئے۔ کہتے ہیں کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ کچھ عرصہ ٹیلی فون آپریٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد تیز ہو گئی تھی اور گرو دت بھی ایک تخلیق کار کی حیثیت سے حالات سے متاثر ہورہے تھے۔ اس دوران انھوں نے ایک کہانی لکھی جو سماج سے مایوسی اور لوگوں کے افسوس ناک رویے پر مبنی تھی اور یہی ’پیاسا‘ کے نام سے ہندی سنیما کی شاہکار فلم ثابت ہوئی۔ گرو دت نے اپنی اوّلین تصور کی جانے والی فلم ’باز‘ سے پہلے ہی تین فلمیں ’لاکھا رانی‘،’ ہم ایک ہی‘ اور’گرلز اسکول‘ بھی کی تھیں۔ بعد میں انھوں نے پیاسا بنائی تھی۔

1951ء میں فلم نگری نے کئی خوب صورت اور یادگار فلمیں‌ ریلیز کی تھیں جن میں گرو دت کی فلم بازی بھی تھی جس نے اچھا خاصا بزنس کیا اور محض 25 برس کی عمر میں انھیں زبردست کام یابی مل گئی، اس کے باوجود یہی کہا جاتا ہے کہ حقیقی معنوں میں گرو دت کی صلاحیتوں اور ان کے فن کا اعتراف بعد از مرگ ہی کیا گیا۔ اس کے اگلے سال انھوں نے فلم جال کی ہدایات دیں اور پھر آر پار، مسٹر اینڈ مسز 55، سی آی ڈی منظرِ عام پر آئی، جس میں گرو دت نے وحیدہ رحمان کو متعارف کرایا تھا جو اس ہدایت کار کی ذاتی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ بعد میں گرو دت نے ایک فلم بنائی جو ناکام ہوگئی جس کا ہدایت کار کو شدید صدمہ ہوا۔ کہتے ہیں اس فلم کی ناکامی نے انھیں‌ توڑ کر رکھ دیا اور پھر انھوں نے وافر مقدار میں نیند کی گولیاں کھا کر اپنی زندگی ختم کر لی۔

1953ء میں گرو دت معروف سنگر گیتا دت سے شادی کرچکے تھے اور ان کے دو بیٹے بھی تھے، لیکن فلم کی دنیا میں وحیدہ رحمان سے تعلق کا آغاز ان کی خانگی زندگی کی بربادی کا باعث بن گیا۔ گرو دت کی بیوی نے اس معاشقے کے بعد الگ مکان لے لیا اور بچّوں کو لے کر وہاں چلی گئیں۔ تب وحیدہ رحمان نے خود پر الزام آتا دیکھ کر گرو دت سے دوری اختیار کر لی اور یوں گرو دت بالکل تنہا رہ گئے۔

فلم بازی کی ہدایت کاری کے دوران گرو دت کو اس وقت کی اسٹار پلے بیک گلوکارہ گیتا رائے سے محبت ہوگئی تھی اور ان کے اہلِ خانہ نے بھی اس گیتا کو بہت پسند کیا تھا۔ گلوکارہ اپنے زمانے میں گرو دت سے بھی زیادہ مقبول تھیں۔ شادی کے بعد وہ ممبئی میں پالی ہل کے بنگلہ نمبر 48 میں رہنے لگے جو اس جوڑے نے مل کر تعمیر کروایا تھا۔ وہاں کئی فن کاروں اور آرٹسٹوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا لیکن پھر یہ رونقیں جیسے کسی آسیب نے نگل لیں۔ ایک روز اس آشیانے کو خود گرو دت نے گروا دیا۔ دراصل وحیدہ رحمان سے گرو دت کے تعلق سے پہلے ہی گرو دت کا اپنی بیوی گیتا دت سے جھگڑا رہنے لگا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ گرو دت اپنی بیوی کو گھر داری تک محدود رہنے اور صرف اپنی فلموں کے لیے گیت گانے کا پابند دیکھنا چاہتے تھے اور کئی دوسرے مسائل نے بھی ان کی ازدواجی زندگی کو تلخ بنا دیا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی بنگلے میں رہتے ہوئے گرو دت نے دو مرتبہ خود کشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ گیتا دت کو اس وہم نے گھیر لیا کہ یہ بنگلہ منحوس ہے اور جب سے وہ یہاں شفٹ ہوئے ہیں، ان تعلقات بگڑتے جارہے ہیں۔ گیتا دت نے اس بات کو اس قدر یقین سے اور کئی مرتبہ ایسے دہرایا کہ گرو دت کے ذہن پر اس کا منفی اثر پڑا اور ایک روز انھوں نے مزدوروں کو بلا کر اس عالی شان بنگلے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

گرو دت کی فلموں کے پیچیدہ کرداروں کے بارے میں اکثر ناقدین کہتے ہیں‌ کہ یہ ان کی ذاتی زندگی کی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ’پیاسا‘ کے علاوہ ’کاغذ کے پھول‘ کو کلاسیکی ہندی فلم کہا جاتا ہے جس کے بعد ہی بطور پروڈیوسر گرو دت کو انڈین سنیما میں یاد کیا جانے لگا تھا۔ لیکن 1970ء کی دہائی میں گرو دت کو گویا نئی زندگی مل گئی۔ ان کی فلموں کا چرچا ہر طرف ہونے لگا۔ پھر 1980ء میں ایک فرانسیسی محقق کا گرو دت پر تحقیقی مضمون شایع ہوا جس سے گرو دت اور ان کا کام دنیا بھر کے فلمی ناقدین کی نظر میں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *