Preloader

صحت مند زندگی کے لیے قدرتی غذاؤں کو روزمرہ استعمال کرنے والے افراد میں صبح نہار منہ کچا لہسن کھانے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کچا لہسن اگرچہ غذائیت سے بھرپور ہے، لیکن اسے خالی پیٹ کھانا ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہے۔

لہسن میں اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی مائکروبیل خصوصیات کے حامل مختلف قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جن میں ایلیسن سب سے نمایاں ہے۔

ماہرین کے مطابق لہسن کا متوازن استعمال مجموعی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے، تاہم اسے کسی بیماری کے علاج یا صحت مند طرز زندگی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

قوتِ مدافعت کے لیے کتنا مفید ہے؟

لہسن میں سلفر مرکبات اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کی معاونت کرسکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط مدافعتی نظام صرف کسی ایک غذا کے استعمال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ متوازن خوراک، مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی مجموعی طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دل کی صحت کے لیے کتنا مفید؟

لہسن کے ممکنہ فوائد میں دل کی صحت بھی شامل ہے، جب کچے لہسن کو کاٹا یا کچلا جاتا ہے تو اس میں موجود بعض مرکبات سے ایلیسن پیدا ہوتا ہے۔

تحقیقات میں لہسن کے استعمال اور بلڈ پریشر و کولیسٹرول سمیت دل کی صحت سے متعلق بعض عوامل میں ممکنہ بہتری کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ تاہم لہسن کو دل کے امراض کی دوا سمجھنا درست نہیں، بلکہ اسے متوازن غذا کا حصہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔

کیا کچا لہسن ہاضمہ بہتر کرتا ہے؟

بعض افراد کا خیال ہے کہ صبح نہار منہ کچا لہسن کھانے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، لہسن میں موجود کچھ اجزا نظامِ ہاضمہ اور آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

تاہم کچا لہسن ہر شخص کے معدے کو یکساں طور پر موافق نہیں آتا، اس کے تیز ذائقے اور بعض مرکبات کے باعث کچھ افراد کو سینے میں جلن، تیزابیت، پیٹ پھولنے، متلی یا معدے میں بے آرامی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کون سے افراد نہار منہ لہسن سے گریز کریں

ماہرین کے مطابق اگر کچا لہسن کھانے سے معدے میں جلن یا بے آرامی محسوس ہوتی ہو تو اسے خالی پیٹ استعمال کرنے کے بجائے کھانے کے ساتھ شامل کرنا بہتر ہے، اس طرح معدے پر براہ راست اثر نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔

خاص طور پر وہ افراد جنہیں پہلے ہی تیزابیت یا سینے کی جلن کی شکایت رہتی ہے، انہیں نہار منہ کچا لہسن استعمال کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

لہسن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس

کچے لہسن میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات بھی پائے جاتے ہیں جو جسم میں پیدا ہونے والے فری ریڈیکلز کے اثرات سے خلیات کو تحفظ دینے میں معاون ہوسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق صرف لہسن کو اینٹی آکسیڈنٹس کا ذریعہ بنانے کے بجائے پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج اور خشک میوہ جات سمیت مختلف غذاؤں پر مشتمل متوازن خوراک زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔

کیا کچا لہسن وزن کم کرتا ہے؟

لہسن کو بعض اوقات وزن کم کرنے والی ’قدرتی غذا‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن صرف کچا لہسن کھانے سے نمایاں وزن کم ہونے کے دعوے کے لیے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔

البتہ لہسن کم کیلوریز والی غذا ہے اور اضافی نمک یا زیادہ کیلوریز والی چٹنیوں کے بجائے کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صحت مند وزن کے لیے متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

روزانہ کتنا کچا لہسن کھانا چاہیے؟

کچے لہسن کی ایسی ایک مقررہ مقدار موجود نہیں جسے ہر شخص کے لیے محفوظ اور ضروری قرار دیا جاسکے۔ اگر کوئی شخص اسے اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہتا ہے تو بہت کم مقدار سے آغاز کرنا بہتر ہے اور جسم کے ردعمل کو دیکھنا چاہیے۔

FOLLOW US ON ARY TUBE

لہسن کو کھانے سے پہلے کچلنے یا باریک کاٹنے سے اس کے بعض سلفر مرکبات، خصوصاً ایلیسن کی تشکیل میں مدد ملتی ہے، تاہم مقدار بڑھانے کے بجائے اسے معمولی مقدار میں خوراک کا حصہ بنانا زیادہ مناسب ہے۔

کیا خالی پیٹ کچا لہسن کھانا محفوظ ہے؟

کچا لہسن نہار منہ کھانا ہر شخص کے لیے موزوں نہیں، صحت مند افراد میں معمولی مقدار عموماً قابلِ برداشت ہوسکتی ہے، لیکن خالی پیٹ کچا لہسن بعض افراد میں تیزابیت، سینے کی جلن، متلی اور معدے کی تکلیف پیدا کرسکتا ہے۔ حساس معدے یا تیزابیت کے شکار افراد کے لیے اسے کھانے کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوسکتا ہے۔

اس لیے کچے لہسن کو صحت کا نسخہ سمجھنے کے بجائے متوازن غذا کا ایک جزو سمجھنا چاہیے۔ اگر لہسن استعمال کرنے سے بار بار معدے کی تکلیف ہو تو اسے خالی پیٹ کھانے سے گریز کرنا بہتر ہے اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………….
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

مچھر مار کوائل کتنا خطرناک ہے، نئی تحقیق میں ہولناک انکشاف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *