Preloader

نیویارک : امریکی ٹرک ڈرائیور نے اپنے شوق اور محنت سے نیویارک شہر کا ایک ایسا حیرت انگیز ماڈل تیار کیا ہے جسے دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔

لکڑی سے تیار کیے گئے اس 8 لاکھ عمارتوں پر مشتمل ماڈل کو مکمل کرنے میں انہیں 21 سال لگے اور اس دوران انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر فارغ وقت اس منفرد منصوبے کے لیے وقف کیے رکھا۔

ان کی بیٹی نے اس ماڈل کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر پوسٹ کیں تو 10 ملین سے زائد افراد نے دیکھا اور پسند کیا، بعد ازاں ان کا یہ شوق اس وقت غیر معمولی کامیابی میں بدل گیا جب ان کے ہاتھ سے تیار کردہ نیویارک شہر کا وسیع ماڈل میوزیم کی زینت بن گیا۔

جو میکِن نے نیویارک کا یہ منفرد ماڈل بالسا ووڈ اور فوم بورڈ سے تیار کیا ہے، جس میں 8 لاکھ سے زائد عمارتیں اور دیگر تعمیرات شامل ہیں۔

کئی برس تک یہ ماڈل ان کے گھر کے تہہ خانے تک محدود رہا، تاہم ان کی بیٹی نے والد کے تیار کردہ اس غیر معمولی شاہکار کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر شیئر کیں تو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں۔

صرف ایک ہفتے کے دوران ویڈیوز کو ایک کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھے جانے کے بعد میوزیم آف دی سٹی آف نیویارک کی انتظامیہ نے جو میکِن سے رابطہ کیا۔

اب ان کا تیار کردہ ماڈل ’He Built This City‘ کے عنوان سے میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نمائش مین ہٹن میں سینٹرل پارک کے قریب میوزیم رو میں جاری ہے اور 12 اکتوبر تک جاری رہے گی۔

میکِن کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی خاص طور پر اس ماڈل کو مکمل کرنے کا نہیں سوچا تھا کیونکہ اسے بنانا ان کے لیے محض شوق اور خوشی کا ذریعہ تھا۔

پورا ماڈل تقریباً 50 فٹ لمبا اور 30 فٹ چوڑا ہے، جبکہ ماڈل کا ایک انچ حقیقی دنیا کے تقریباً 160 فٹ رقبے کی نمائندگی کرتا ہے۔

ماڈل میں مین ہٹن کی بلند و بالا عمارتوں سے لے کر کوئنز کے عام گھروں تک، مختلف علاقوں اور تعمیرات کو انتہائی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ مجسمہ نما تعمیرات میں اسٹیچو آف لبرٹی، یانکی اسٹیڈیم اور بروکلین برج جیسے مشہور مقامات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے ماڈل کا آغاز راک فیلر سینٹر اور اس کے مشہور ’30 راک‘ ٹاور سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بتدریج پورے مڈ ٹاؤن مین ہٹن کو ماڈل میں شامل کیا، جسے مکمل کرنے میں تقریباً 10 سال لگے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ماڈل نیویارک شہر کی صرف موجودہ شکل کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس میں میکِن کی ذاتی یادیں بھی محفوظ ہیں۔ مثال کے طور پر کوئنز میں انہوں نے اپنے بچپن کا پسندیدہ ریسٹورنٹ بنایا، حالانکہ اس کی جگہ اب ایک بلند عمارت موجود ہے۔

لوئر مین ہٹن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سابق جڑواں ٹاورز بھی اس ماڈل میں موجود ہیں۔ ان کے ساتھ نائن الیون کے بعد تعمیر ہونے والا ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دیگر نئی بلند عمارتیں بھی شامل ہیں۔ میکِن کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر کے بہت سے حصے اپنی ذاتی یادوں کے لیے محفوظ رکھے ہیں۔

یوں ایک ٹرک ڈرائیور کا برسوں تک خاموشی سے جاری رہنے والا شوق نہ صرف لاکھوں لوگوں تک پہنچا بلکہ اب نیویارک شہر کی تاریخ، جغرافیہ اور ذاتی یادوں کا ایک منفرد فن پارہ بن چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *