Preloader

کراچی : سندھ میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں کمی تو نہ آسکی لیکن ساتھ ہی اس کی ویکسین کے نتائج بھی صفر نکلے جس کے سبب 5 سالہ بچی انجکشن کے باوجود ریبیز کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گئی۔

صوبہ سندھ میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور ریبیز سے ہونے والی اموات نے ایک بار پھر حکومتی اقدامات اور انسدادِ ریبیز پروگرام پر سوالات اٹھا دیے۔

شہریوں نے ویکسین لگوانے کے باوجود اموات کے واقعات سامنے آنے، ویکسین کے معیار، کولڈ چین اور علاج کے طریقہ کار پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹنڈو غلام حیدر کے علاقے میں 5 سالہ بچی مسکان لاشاری کی کتے کے کاٹنے کے بعد موت نے صورتحال کی سنگینی مزید واضح کردی، بچی کو مکمل ویکسین لگائی گئی تھی، تاہم دوران علاج اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہوسکی۔

ایک اور واقعے میں ٹنڈو الہیار کے علاقے میں 23 سالہ خاتون کو کتے کے کاٹنے کے تقریباً 6 ماہ بعد ریبیز کی تشخیص ہوئی، حالانکہ اہل خانہ کے مطابق اسے کتے کے کاٹنے کے بعد ویکسین کی تین خوراکیں دی گئی تھیں۔

محکمہ صحت کی سنگین غفلت اور لاپروائی

یاد رہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین کو 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کے سبب کولڈ چین برقرار نہ رہنے کی صورت میں ویکسین کے متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔

اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ ڈاکٹر سعید احمد جلبانی سوالات کا تسلی بخش جواب نہ سکے تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ریبیز پروگرام کے تحت ویکسین مراکز میں کولڈ چین برقرار رکھنے کے لیے جنریٹر، یو پی ایس اور سولر سمیت بیک اپ انتظامات کی ہدایات دی ہوئی ہیں اور مانیٹرنگ ٹیمیں بھی اس عمل کی نگرانی کررہی ہیں۔

ویکسی نیشن

چار ڈاکٹرز اور متعدد ہیلتھ ورکرز معطل

حکومت سندھ کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے بتایا کہ ریبیز سے ہونے والی اموات کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، ابتدائی تحقیقات میں علاج کے پروٹوکول پر عمل نہ ہونے پر چار ڈاکٹروں کو معطل جبکہ متعدد ہیلتھ ورکرز سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے ایکسپائر یا خراب ہونے سے متعلق حتمی رائے تحقیقات، لیبارٹری ٹیسٹ، اسٹوریج اور خریداری کے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔

کتوں کی افزائش

کتوں کی افزائش روکنے کے اقدامات

سیدہ تحسین عابدی کا کہنا تھا کہ مسئلے کا مستقل حل صرف کتے کے کاٹنے کے بعد علاج نہیں بلکہ آوارہ کتوں کی افزائش کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔

سندھ میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران 25 ہزار 500 سے زائد آوارہ کتوں کی نس بندی جبکہ 36 ہزار 900 کتوں کی ویکسینیشن مکمل کی جاچکی ہے۔

اسی عرصے میں جنوری سے اگست تک اینٹی ریبیز پروگرام کے تحت تقریباً 45 ہزار مریضوں کا علاج بھی کیا گیا۔ حکام کے مطابق کتوں کو مارنے کے بجائے انسانی طریقے سے ان کی نس بندی اور ویکسی نیشن پر توجہ دی جارہی ہے۔

کراچی میں کتے کے کاٹے کے 100 متاثرین پر تحقیق میں ہولناک انکشاف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *