اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ کیئر کو نیشنل سکیورٹی ایشو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جارہے ہیں۔
اسلام آباد میں جینوم پروفائل سے متعلق پریس کانفرنس کرتےہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو نئی ٹیکنالوجی اور جدید رپورٹس کو ترجیح دینا ہوگی، ہیلتھ کیئر نیشنل سکیورٹی ایشو ہے، ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جا رہے ہیں، ملک میں کوئی وبا نہیں پھوٹی ہوئی لیکن اسپتالوں میں وبائی مرض کی صورتحال ہے، ہمارا نظام بیماری کا نظام ہے، اسپتال بھرے پڑے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سالانہ ان بیماریوں پر 200 سے 300 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، لاکھوں روپے دے کر باہر سے ٹیسٹ کرواتے ہیں، ہم نیوکلئیر پاور ہیں ہمارے پاس لیبز ہونی چاہئیں، بجٹ میں کٹوٹی پر کٹوتی ہو رہی ہے مگر ہم ہار نہیں مانیں گے۔
وزیر صحت کا کہنا تھاکہ کہ ہمیں ہیلتھ کیئر کی جانب جانا ہے، شادی سے قبل اسکریننگ کی جانب جانا ہوگا جس کے لیے اسکریننگ سینٹرز بنا رہے ہیں، شادی سے پہلے تھیلیسیما کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے جا رہے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا کہ ملک 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی بننے جا رہا ہے، معاشی بحران اور وسائل کی کمی کے باعث برین ڈرین ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کوئی بھی ملک برین ڈرین برداشت نہیں کرسکتا۔


























Leave a Reply